بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1442ھ- 26 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زوجین میں سے کسی کے انتقال پر دوسرا اسے غسل دے سکتا ہے؟


سوال

میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں دوسرا غسل دے سکتا ہے، خاص کر جب عورت کا انتقال ہو جائے، تب مرد غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟ عورت کو دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور ان کا تعلق فوراً ختم ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

شوہر کے لیے اپنی بیوی کا چہرہ مرنے کے بعد دیکھنا جائز ہے، البتہ اسے چھونا اور غسل دینا منع ہے، اور بیوی اپنے شوہر کے مرنے بعد اسے دیکھ بھی سکتی ہے اور غسل بھی دے سکتی ہے، نیز بیوی کے انتقال کی صورت میں نکاح کا تعلق فوراً ختم ہوجاتا ہے اور شوہر کے انتقال کی صورت میں عدت گزرنے تک تعلق برقرار رہتا ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (2 / 198):
"(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح ) منية ... ( وهي لاتمنع من ذلك)". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں