بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں بیوی کو کچھ نہ دینا


سوال

 زید کی دو شادیاں ہیں، ایک سے اولاد ہے اوردوسری سےنہیں۔ زید جائیداد اپنی حیات میں اولادکو تقسیم کر دیتا ہے او رصاحبِ اولاد بیوی کو  بھی تقسیم کر دیتا ہے، نیزنام بھی رجسٹری کر دیتا ہے،  مگر جس بیوی کی اولاد نہیں ہے اس کے نام جائیدادنہیں کرتا،  مگر اس جائیداد کا نفع دیتارہتا ہے۔ زیدکی وہ بیوی جو صاحبِ اولاد نہیں وہ بھی اس میں راضی ہے؛ کیوں کہ دونوں یہ چاہتےہیں کہ یہ جائیداد زید کے سسرال کو نہ ملے بوجہ خاندانی جھگڑا۔ اگر ملے تو بہت کم ملے۔ کیا زید کا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟  نیز زید اور اس کی زوجہ ثانی کی وفات کے بعدکیا اول خاندان بھی اس جائیداد میں وارث ہوگا یعنی زوجہ اول اور اس کی اولاد؟

جواب

صورتِ  مسئلہ میں زید  اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود ہی مالک ہے اور اس میں جائز تصرف کرنا چاہے کرسکتا ہے،  زید  کی وفات کے وقت اس کے شرعی ورثاء میں سے جو حیات ہوں گے، اس کی جائیداد  ان کے حصوں کے بقدرتقسیم ہوگی، لہذا اگر زید اپنی زندگی میں اپنی اُس زوجہ کو جو بے اولاد ہے اس کو جائیداد کا مالک نہیں بنائے گا تو زید کی وفات کے وقت بقیہ ورثاء کے ساتھ اس کو بھی صرف شرعی حصہ ملے گا ، اس سے زیادہ نہیں۔ اور زوجہ اول یعنی جس بیوی اور اس کی اولاد کو جائیداد دی ہے، اگر یہ بطورِ ہبہ دی ہے (یعنی اس حصے کے عوض یہ افراد  میراث سے دست بردار نہیں ہوئے ہیں) تو زید کی وفات کے وقت ان میں سے جو موجود ہوگا وہ بھی شرعی حصے کا حق دار ہوگا، چاہے زید کی وفات کے وقت زوجہ ثانیہ (یعنی جسے وہ زندگی میں حصہ نہیں دے رہا) زندہ ہو یا نہیں۔

باقی سائل کا یہ کہنا کہ ’’دونوں یہ چاہتےہیں کہ یہ جائیداد زید کے سسرال کو نہ ملے بوجہ خاندانی جھگڑا۔ اگر ملے تو بہت کم ملے ‘‘ اس حوالے سے دو باتیں قابلِ اصلاح ہیں: (1) جھگڑا اور اختلاف اچھی بات نہیں ہے، یہ برکات، رحمت اور  نصرتِ خداوندی اٹھنے کا ذریعہ ہے، اگر کوتاہی اپنی ہو تو اس کا ازالہ کرنا چاہیے، اور دوسرے کی غلطی ہو تو بھی اسلامی اَخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیا جائے، دین اور دنیا دونوں میں ہی اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ (2) یہ چاہنا کہ ہمارے بعد کسی شرعی وارث کو وراثت نہ ملے یا  کم ملےیہ جذبہ شرعاً ممنوع ہے، اور اس نیت سے زندگی میں غیر معمولی طور پر یا بے اعتدالی کے ساتھ مال تقسیم کرنا کہ موت کے بعد فلاں فلاں وارث کو نہ ملے یا کم ملے، یہ گناہ ہے۔ جہاں تک زید کے سسرال کی بات ہے تو زید کی چوں کہ اولاد موجود ہے تو زید کی وفات کی صورت میں اس کے سسرال والے شرعی وارث نہیں بنیں گے۔ تاہم زید کی بیوی کے انتقال کی صورت میں زید کے سسرال والے وارث ہوسکتے ہیں، اگر زید کی زوجہ (جس کی اولاد نہیں ہے) کی چاہت یہ ہے کہ میں شوہر سے اس لیے حصہ نہیں لے رہی، تاکہ میری جائیداد کم ہو، اور میری موت کی صورت میں میرے ورثہ کو حصہ نہ ملے، یا بہت کم ملے تو اس جذبے کی اصلاح کی ضرورت ہے، یہ نیت نہ ہو تو بیوی کے حصہ نہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے