بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

’’زمل‘‘ نام رکھنے کا حکم


سوال

’’ زمل‘‘  لڑکی کے نام کے معنی بتادیں. کیا یہ اسلامی نام ہے؟ اور کیا یہ نام رکھنا درست ہے؟

جواب

’’زِمل‘‘  زا کے زیر اور  میم کے سکون کے ساتھ، بوجھ، کم زور، سست، کم تر کے معنی میں ہے، اور ’’زُمَل‘‘  زاء کے پیش اور میم کے فتحہ کے ساتھ بزدل، کم زور اور کمینہ کے معنیٰ میں ہے؛  اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔

البتہ ’’زَمَل‘‘ زاء اور لام دونوں کے فتحہ کے ساتھ تیزی کے معنیٰ میں ہے۔ اس مادے کا ایک معنیٰ کسی کے پیچھے چلنا، کسی کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھانا، کسی کا ساتھی ہونا وغیرہ بھی ہے۔ اس اعتبار سے ’’زَمَل‘‘ (zamal) نام رکھنا درست ہے، لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ بچیوں کے نام ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر یا کم از کم اچھے معنی والا عربی نام رکھا جائے۔

تاج العروس (ص: 7141، بترقيم الشاملة آليا):
"والزِّمْلُ بالكسرِ: الْحِمْلُ وفي حديثِ أبي الدَّرْداءِ : إنْ فَقَدْتُمُونِي لَتَفْقِدُنَّ زِمْلاً عَظِيماً يُرِيدُ حِمْلاً عَظِيماً مِنَ العِلْمِ". 

لسان العرب (11/ 311):
"والزِّمْل: الكَسْلان. والزُّمَل والزُّمَّل والزُّمَّيْلُ والزُّمَيْلَة والزُّمَّال: بِمَعْنَى الضَّعِيفِ الجَبان الرَّذْل؛ قَالَ أُحَيْحة:
وَلَا وأَبيك مَا يُغْني غَنائي، ... مِنَ الفِتْيانِ، زُمَّيْلٌ كَسُولُ
وَقَالَتْ أُمّ تأَبَّط شَرًّا: وَا ابْنَاهُ وَا ابْنَ اللَّيْل، لَيْسَ بزُمَّيْل، شَرُوبٌ للقَيْل، يَضْرب بالذَّيْل، كمُقْرَب الخَيْل. والزُّمَّيْلة: الضَّعِيفَةُ. قَالَ سِيبَوَيْهِ: غَلَب عَلَى الزُّمَّل الْجَمْعُ بِالْوَاوِ وَالنُّونِ لأَن مُؤَنَّثَهُ مِمَّا تَدْخُلُهُ الْهَاءُ. والزِّمْل: الحِمْل. وَفِي حَدِيثِ أَبي الدَّرْدَاءِ: لَئِن فَقَدْتموني لتَفْقِدُنَّ زِمْلًا عظيماً؛ الزِّمْل: الحِمْل، يريد حِمْلًا عَظِيمًا مِنَ الْعِلْمِ؛ قَالَ الْخَطَّابِيُّ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ زُمَّل، بِالضَّمِّ وَالتَّشْدِيدِ، وَهُوَ خطأٌ. أَبو زَيْدٍ: الزُّمْلة الرُّفْقة؛ وأَنشد:
لَمْ يَمْرِها حالبٌ يَوْمًا، وَلَا نُتِجَتْ ... سَقْباً، وَلَا ساقَها فِي زُمْلةٍ حَادِي
النَّضْرُ: الزَّوْمَلة مِثْلُ الرُّفْقة.... والزِّمْل عِنْدَ الْعَرَبِ: الحِمْل، وازْدَمَلَ افْتَعَلَ مِنْهُ، أَصله ازْتَمله، فَلَمَّا جَاءَتِ التَّاءُ بَعْدَ الزَّايِ جُعِلَتْ دَالًا. والزَّمَل: الرَّجَز؛ قَالَ:
لَا يُغْلب النازعُ مَا دَامَ الزَّمَل، ... إِذا أَكَبَّ صامِتاً فَقَدْ حَمَل
يَقُولُ: مَا دَامَ يَرْجُز فَهُوَ قَوِيٌّ عَلَى السَّعْيِ، فإِذا سَكَتَ ذَهَبَتْ قُوَّتُهُ؛ قَالَ ابْنُ جِنِّي: هَكَذَا رُوِّينَاهُ عَنْ أَبي عَمْرٍو الزَّمَل، بِالزَّايِ الْمُعْجَمَةِ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ الرَّمَل، بِالرَّاءِ أَيضاً غَيْرَ مُعْجَمَةٍ، قَالَ: وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صِحَّةٌ فِي طَرِيقِ الِاشْتِقَاقِ، لأَن الزَّمَل الخِفَّة والسُّرْعة، وَكَذَلِكَ الرَّمَل بِالرَّاءِ أَيضاً، أَلا تَرَى أَنه يُقَالُ زَمَلَ يَزْمُل زِمَالًا إِذا عَدَا وأَسرع مُعْتَمِدًا عَلَى أَحد شِقَّيه، كأَنه يَعْتَمِدُ عَلَى رِجْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَيْسَ لَهُ تَمَكُّنُ الْمُعْتَمِدِ عَلَى رِجْليه جَمِيعًا".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201445

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے