بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زبان اور دل سے ذکر کرنا


سوال

کئی سالوں سے میں اپنے دل میں  سبحان اللہ ، اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ وغیرہ کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ زبان کے ساتھ اللہ کی یاد کو ادا کرنے اور دل سے ادا کرنے میں کیا فرق ہے؟ اور دل سے ادا کرنے میں کیا فرق ہے؟ کیا اللہ کے اجر میں کوئی فرق ہے؟

جواب

ذکر اللہ سے اصل مقصود اللہ پاک کی یاد ہے، اور زبان سے ذکر کرنے کا مقصود بھی یہ ہی ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے تازہ دم رہے، اسی وجہ سے شارحینِ حدیث نے ذکر قلبی کو ذکر لسانی سے بھی افضل کہا ہے، اسی میں اجر  زیادہ ہے اور اسی کو جہادِ اکبر بھی کہا جائے گا۔ تاہم دونوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے، مختلف مواقع اور اشخاص کے اعتبار سے ذکر کے احکام میں فرق ہے، جہاں نصوص (قرآنِ مجید واحادیثِ مبارکہ) میں ذکرِ لسانی منقول ہے وہاں زبان سے بھی ذکر کرنا چاہیے، اسی طرح مرشد و مصلح اگر کسی کے لیے کسی موقع پر زبانی ذکر تجویز کرے تو وہ اس کے لیے مفید ہوگا، باقی عمومی احوال میں (جیساکہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے) ذکرِ قلبی افضل ہے۔

جہاں تک دونوں طرح کے ذکر میں فرق کا تعلق ہے تو زبان سے ذکر کرنے کی صورت میں زبان حرکت کرتی ہے جب کہ ذکرِ قلبی میں زبان حرکت نہیں کرتی، صرف دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1551):
"(قالوا: بلى. قال: ذكر الله) : قال ابن الملك: المراد الذكر القلبي، فإنه هو الذي له المنزلة الزائدة على بذل الأموال والأنفس؛ لأنه عمل نفسي، وفعل القلب الذي هو أشق من عمل الجوارح، بل هو الجهاد الأكبر، لا الذكر باللسان".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں