بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ریال کا قرض روپے میں ادا کرنا


سوال

میں سعودی عرب میں ہوں، اور یہاں میرا ایک دوست پاکستان گیا تھا چھٹی پر، اور اس نے مجھ سے قرض پیسے مانگ لیے، میں نے 5000 ہزار ریال بھیج دیے، جو اس وقت 140000 (ایک لاکھ چالیس ہزار)  پاکستانی اس کو مل گئے۔ اور اس نے وعدہ کیا کہ میں 3 یا 4 مہینے واپس کروں گا، اگر یہاں ضرورت ہوئے تو میں آپ کو یہاں دے دوں گا، نہیں تو میں چھٹی سے واپس ہو کر وہاں دے دوں گا۔  یہا ں اس نے وعدہ پورہ نہیں کیا اور ایک سال ہو گیا ہے۔ اب کہتا ہے کہ میں آپ کو 140000 کے حساب سے قرض واپس کروں گا جو کہ تقریباً 4200 ریال بن جائےگا۔  راہ نمائی فرمائیں!

جواب

مذکورہ صورت میں آپ نے قرض کی جتنی مقدار ریال میں دی تھی آپ کا حق  اسی مقدار یا اس کے مساوی رپوں  میں ہے یعنی 5000 ریال؛ لہذا مقروض 5000 ریال دینے کا پابند ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے