بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

بیت اللہ کے سامنے رکوع اور سجدہ کے وقت نمازی کو نظر کہاں رکھنی چاہیے؟


سوال

نماز میں قیام کے دوران سجدہ کی جگہ دیکھنا مستحبات میں سے ہے، لیکن اگر کوئی شخص مطاف میں بیت اللہ کے سامنے نماز ادا کرے تو اس کے لیے بھی سجدہ کی جگہ دیکھنا مستحب ہوگا؟ فقہاء کی صریح عبارات کی روشنی میں جواب دیجیے!

جواب

نماز میں خشوع وخضوع برقرار رکھنے کے لیے  مستحب ہے کہ حالتِ قیام میں سجدہ کی جگہ نظر جمی رہے، حالتِ رکوع میں قدموں پر نظر رہے، سجدہ میں ناک پر نگاہ رہے، اور حالتِ قعدہ میں اپنی گود پر نظر رہے، یہ حکم ہر حالت میں ہے، حتی کہ اگر کوئی شخص بیت اللہ شریف کے عین سامنے نماز پڑھ رہا ہو تو اسے بھی مذکورہ آداب کا خیال رکھنا چاہیے، دورانِ نماز اسے کعبۃ اللہ پر نظر نہیں جمانی چاہیے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 276):
"و" منها" نظر المصلي" سواء كان رجلا ً أو امرأةً "إلى موضع سجوده قائماً" حفظاً له عن النظر إلى ما يشغله عن الخشوع، "و" نظره "إلى ظاهر القدم راكعاً وإلى أرنبة أنفه ساجداً وإلى حجره جالساً" ملاحظاً قوله صلى الله عليه وسلم: "اعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تره فإنه يراك"، فلايشتغل بسواه، "و" منها نظره "إلى المنكبين مسلماً" وإذا كان بصيراً أو في ظلمة فيلاحظ عظمة الله تعالى". 

وفی الطحطاوي تحته: ويفعل هذا ولو كان مشاهداً للكعبة على المذهب".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 477):
"(نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه، وإلى أرنبة أنفه حال سجوده، وإلى حجره حال قعوده. وإلى منكبه الأيمن والأيسر عند التسليمة الأولى والثانية)؛ لتحصيل الخشوع".  

’’(قوله: لتحصيل الخشوع) علة للجميع؛ لأن المقصود الخشوع وترك التكليف، فإذا تركه صار ناظراً إلى هذه المواضع قصد أو لا، وفي ذلك حفظ له عن النظر إلى ما يشغله، وفي إطلاقه شمول المشاهد للكعبة؛ لأنه لا يأمن ما يلهيه، وإذا كان في الظلام أو كان بصيراً يحافظ على عظمة الله تعالى؛ لأن المدار عليها، وتمامه في الإمداد. وإذا كان المقصود الخشوع، فإذا كان في هذه المواضع ما ينافيه يعدل إلى ما يحصله فيها‘‘.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200691

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے