بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد نہ ہونے کی دلیل


سوال

 آنکھ میں دوائی ڈالنے سے روزہ کے عدمِ فساد پر کیا کوئی حدیث مستدل ہے یا کسی اور دلیل سے ایسا کیا جاتا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں!

جواب

آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اگرچہ اس دوا کا ذائقہ یا اثر حلق میں محسوس ہو ، اس لیے کہ روزہ کی حالت میں آپ ﷺ سے سرمہ لگانا اور سرمہ کی اجازت دینا ثابت ہے، نیز آنکھ  کسی چیز کے بدن میں داخل کرنے کے لیے ایسا واضح اور کھلا راستہ نہیں ہے کہ اسے منفذِ معتاد کہا جاسکے، اور روزہ کے افطار کے لیے کسی چیز کا منفذِ معتبرہ سے داخل ہونا ضروری ہے، اور آنکھ میں اگر کسی چیز کے داخل کرنے سے حلق میں اس کا اثر بھی محسوس ہوتو وہ اثرات حلق میں مسامات کے ذریعہ پہنچتے ہیں، اور مسامات کے ذریعے کسی چیز کے بدن میں داخل ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹنے پر ائمہ متبوعین میں سے امام مالک کے علاوہ باقی ائمہ ثلاثہ کا اتفاق ہے،  امام مالک اور امام احمد رحمہ اللہ سے سرمے کا ذائقہ منہ میں محسوس ہونے کی صورت میں روزے کے دوران سرمہ لگانے کی کراہت منقول ہے، یہ بھی واضح رہے کہ امام مالک رحمہ اللہ سے  بلاعذر مردوں کے لیے سرمہ لگانے کی مطلقاً (خواہ رمضان ہو یا نہیں) کراہت بھی منقول ہے۔ 

روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے سے متعلق جو روایات منقول ہیں ان میں سے کچھ ضعیف ہیں اور کچھ   بعض ائمہ محدثین کے نزدیک قابلِ استدلال بھی ہیں، ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سب روایات جوکہ متعدد طرق سے مروی ہیں کے مجموعہ سے استدلال کرنا درست ہے،  نیز ان کو ائمہ مجتہدین کی تلقی بالقبول بھی حاصل ہے کہ اس پر انہوں اس مسئلہ کی بنیاد رکھی ہے، اور اس کو قبول کیا ہے۔ لہذا روزہ دار کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا یا دوا ڈالنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1395):
" (وعن أنس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: اشتكيت عيني) بالتشديد، وفي نسخة بالتخفيف أي أشكو من وجع عيني " أفأكتحل وأنا صائم؟ " أي حال كوني صائماً (قال: نعم)، فيه جواز الاكتحال بلا كره للصائم، وبه قال الأكثرون، وقال مالك وأحمد وإسحاق: مكروه، نقله ميرك، ولعل الخلاف فيما إذا لم يكن عن عذر، وقال المظهر: الاكتحال ليس بمكروه للصائم وإن ظهر طعمه في الحلق عند الأئمة الثلاثة، وكرهه أحمد. (رواه الترمذي وقال: ليس إسناده بالقوي) وقال: لايصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب شيء، نقله ميرك (وأبو عاتكة الراوي يضعف) وقال ابن الهمام: مجمع على ضعفه، وأخرج الترمذي عن عائشة قالت: «اكتحل النبي صلى الله عليه وسلم وهو صائم»، وفي إسناده من هو مجمع على ضعفه، وأخرجه البيهقي مرفوعاً بسند ضعيف، وأخرجه أبو داود موقوفاً على أنس، فهذه عدة طرق وإن لم يحتج بواحد منها فالمجموع يحتج به لتعدد الطرق، وأما ما في أبي داود أنه صلى الله عليه وسلم أمر بالإثمد عند النوم، وقال: " ليتقه الصائم " فضعيف، قال ابن حجر: ويوافقه خبر البيهقي والحاكم «أنه صلى الله عليه وسلم كان يكتحل بالإثمد وهو صائم»، لكن ضعفه في المجموع، وقال الترمذي: وخبر ابن عمر - رضي الله عنهما - «خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعيناه مملوءتان من الكحل، وذلك في رمضان، وهو صائم» ، في إسناده من اختلف في توثيقه".

المبسوط للسرخسي (3/ 67):
"(قال): والاكتحال لايضر الصائم، وإن وجد طعمه في حلقه وكان إبراهيم النخعي يكره للصائم أن يكتحل وابن أبي ليلى كان يقول: إن وجد طعمه في حلقه فطره لوصول الكحل إلى باطنه.
(ولنا) حديث أبي رافع أن النبي صلى الله عليه وسلم «دعا بمكحلة إثمد في رمضان فاكتحل، وهو صائم». وعن أبي مسعود قال «خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء من بيت أم سلمة وعيناه مملوءتان كحلاً كحلته أم سلمة» وصوم يوم عاشوراء في ذلك الوقت كان فرضاً ثم صار منسوخاً ثم ما وجد من الطعم في حلقه أثر الكحل لا عينه كمن ذاق شيئاً من الأدوية المرة يجد طعمه في حلقه فهو قياس الغبار والدخان، وإن وصل عين الكحل إلى باطنه فذلك من قبل المسام لا من قبل المسالك إذ ليس من العين إلى الحلق مسلك فهو نظير الصائم يشرع في الماء فيجد برودة الماء في كبده، وذلك لايضره". 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 93):
"ولو اكتحل الصائم لم يفسد وإن وجد طعمه في حلقه عند عامة العلماء.
وقال ابن أبي ليلى: يفسد، وجه قوله؛ إنه لما وجد طعمه في حلقه فقد وصل إلى جوفه.
(ولنا) ما روي عن عبد الله بن مسعود أنه قال: «خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان وعيناه مملوءتان كحلاً كحلتهما أم سلمة» ولأنه لا منفذ من العين إلى الجوف ولا إلى الدماغ وما وجد من طعمه فذاك أثره لا عينه، وأنه لايفسد كالغبار، والدخان". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے