بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

رنگ ساز کے لیے وضو کا حکم


سوال

رنگ ساز کے ہاتھوں پہ رنگ لگ گیا اور صاف کرنے سےصاف نہیں ہوتا تو کیا ہاتھوں کو ہر صورت صاف  کرنا ضروری ہے  یا پھر اس کےساتھ وضو اور غسل ہوجائے گا؟

جواب

اگر رنگ یا پینٹ وغیرہ  تہہ دار ہے اور وہ کھال تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہے؛ تواس کے لگے ہونے کی حالت میں وضو درست نہیں ہوگا، اور اگر تہہ دار نہیں ہے محض رنگ ہے تو وہ وضو سے مانع نہیں۔

 البتہ اگر ایسی جگہ پر پینٹ وغیرہ لگ جائے کہ پوری کوشش کے بعد بھی مکمل طور پر نہ چھوٹے، اور زیادہ کوشش کے نتیجے میں کھال اترنے یا زخم بننے کا اندیشہ ہو تو جس قدر ہٹ سکے اس کا چھڑانا ضروری ہوگا، باقی کا چھڑانا لازم نہیں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/96)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 154):

"(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى.

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن".

الفتاوى الهندية (1/ 4):

"في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز.

وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ؟ قال: كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي، كذا في الذخيرة. وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار، كذا في الزاهدي ناقلاً عن الجامع الأصغر.

والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل، كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز".

"ویعفی أثر شق زواله بأن یحتاج في إخراجه إلی نحو الصابون". (مجمع الأنهر ۱؍۹۰)

"والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتهما سقطت". (البحر الرائق ۱؍۲۳۷)

"شرط صحته أي الوضوء زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد کشمع شحم". (مراقي الفلاح مع الطحطاوي ۶۲ أشرفیة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے