بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

رمیسہ یا رمیساء نام رکھنا


سوال

بچی کا'' رومیسہ''  نام رکھنا ٹھیک ہے؟کیا یہ کسی صحابیہ کا نام ہے؟تلفظ  ''رمیساء'' ہے یا ''رومیسہ'' ؟

جواب

'' رُمَیْسَه'' یہ ”رمس “ کی تصغیر ہے،  اس کے معنی ہیں: نشان مٹانا ، چھپانا. صحابیات میں سے کسی کا '' رُمَیْسَه''نام تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔ البتہ ”رُمَیْصَاء “( ص کے ساتھ )   یہ صحابیات کے ناموں میں سے، اور ایک ستارہ کا نام بھی ہے،   حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام سلیم کا نام ”رمیصاء “ تھا، لہذا  ”رمیصاء“ نام رکھنا درست ہے۔

'' الرميصاء بنت ملْحَان بن خَالِد وَهِي أم سليم أم أنس بن مَالك، وَيُقَال:''الغميصاء''، وَيُقَال اسْمهَا: ''سهلة''، وَيُقَال: ''رميكة''، وَيُقَال: ''رميثة''، وَيُقَال: ''أنيفة الرميصاء''۔ (تلقيح فهوم أهل الأثر لابن الجوزی (ص: 241) ط: شرکة دارالارقم)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے