بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 28 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں لیکوریا والی عورت صفائی کرے؟


سوال

میری بیوی کو لیکوریا کا مسئلہ رہتا ہے، وہ رمضان میں مجھے کہہ رہی تھی کہ جب تک میں اپنے فرج کو اندر سے انگلی کے ذریعے صحیح صفائی نہ کردوں تو وضو کے بعد دوبارہ رطوبت باہر نکلتی ہے اور وضو ٹوٹ جاتا ہے، مسئلہ یہ دریافت کرناہے  کہ میں نے سنا ہےکہ بار بار انگلی داخل اور خروج سے روزہ ٹوٹتا ہے، رمضان میں میری بیوی کیا کرے؟

اگر انگلی سے اس طرح صفائی کرےجس سے روزہ ٹوٹتا ہے تو روزہ ٹوٹنے کا ڈر اور اگر نہ کرے تو وضو ٹوٹنے کا ڈراور بغیر وضو نماز نہیں ہوتی، تو ایسی حالت میں کیا کیا جائے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرروزہ کی حالت میں خاتون  کی شرم گاہ میں خشک انگلی داخل کی جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر پانی یا تیل وغیرہ سے تر انگلی شرم گاہ میں داخل کی جائے (یا شرم گاہ میں خشک انگلی داخل کرے اور وہ تر ہوجائے پھر اسے نکال کر دوبارہ داخل کرے)  تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لہذا روزہ کی حالت میں شرم گاہ کی صفائی نہ جائے ۔

اگر لیکوریا کی رطوبت کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں رہی اور اتنی مہلت بھی نہیں ملی کہ فرض نماز وضو کے ساتھ اس کے بغیر پڑھ سکے  تو یہ خاتون معذور ہے، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ  وضو کرکے اس وقت میں نماز پڑھ لے، نماز ادا ہوجائے گی،  لیکوریا کی رطوبت نکلنے کے باوجود اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، جب نماز کا وقت ختم ہوجائے گا تو وضو ٹوٹ جائےگا، اگلی نماز کے وقت کے لیے الگ وضو کرنا ہوگا۔ اور اگر لیکوریا کچھ دیر تک جاری رہتاہے، پھر رک جاتاہے، یعنی نماز کا مکمل وقت اس حالت میں نہیں گزرتا، بلکہ وقت کے اندر پاکی حاصل کرکے باوضو ہوکر وقتی فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے تو یہ عورت شرعی معذور نہیں ہوگی، ایسی صورت میں بجائے انگلی اندر داخل کرنے کے وہ پیڈ وغیرہ کا استعمال کرے، چلنے پھرنے سے تری خارج ہوجائے گی، پھر کچھ دیر بعد جب تری ختم ہوجائے تو پاکی اور وضو کے بعد نماز ادا کرے۔

"(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل، (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في {لدلوك الشمس} (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق".  (رد المحتار، کتاب الطهارة، باب الحيض 1 / 305 ط:سعيد)فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے