بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک اور جمعۃ المبارک میں انتقال کرنے والے سے عذابِ قبر کا اٹھایا جانا


سوال

اگر کوئی شخص جمعہ کے دن انتقال کرتاہے تو کیا اس شخص کے لیے صرف اس دن قبر کا عذاب معاف ہے یا زندگی بھر کے لیے؟  اسی طرح اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں انتقال کرتا ہے تو اس کو صرف رمضان المبارک میں قبر کا عذاب معاف ہے یا ہمیشہ؟

جواب

رمضان المبارک اور جمعہ کے دن انتقال کرنے والوں کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے،  اب یہ عذاب صرف رمضان المبارک اور جمعہ کے دن ہٹایا جاتا ہے یا تاقیامت ؟ اس کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں: صرف ماہ رمضان المبارک اور جمعہ کے دن   یہ عذاب اٹھا دیا جاتا ہے، اور بعض فرماتے ہیں: تاقیامت ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے اور  یہ قبر میں راحت وآرام کے ساتھ رہتے ہیں۔

زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حق میں یہ حکم عمومی ہے کہ  اگر کسی مسلمان کا انتقال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تو  قبر کے ابتدائی خوف اور ضغطہ (تنگی ،ایک دفعہ کا دبانا ) کے بعد تا قیامت عذابِ قبر  ومنکر نکیر کے سوال سے محفوظ رہے گا، اور اللہ کی رحمت سے یہ بعید بھی نہیں کہ وہ حشر میں بھی  اس سے حساب نہ لیں۔  جیساکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  کے ملفوظات میں ہے:

”  فرمایا: رمضان میں اگر انتقال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور  أنا عند ظن عبدي بي پر عمل کرے۔ “(26/405)

  اور اگر کوئی غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

’’عن عبد اللّٰه بن عمرو رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه ﷺ: ما من مسلم یموت یوم الجمعة أو لیلة الجمعۃ إلا وقاه اللّٰه فتنة القبر‘‘. (سنن الترمذي، الجنائز، باب ما جاء في من یموت یوم الجمعة ۱؍۲۰۵ وقال: هذا حدیث غریب ولیس إسناده بمتصل)

"قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق، لكن إن كان كافراً فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان، فيعذب اللحم متصلاً بالروح والروح متصلاً بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجاً عنه، والمؤمن المطيع لايعذب، بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه، والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها، ثم لايعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعةً واحدةً وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي الحنفي من حاشية الحنفي ملخصاً".  (فتاوی شامی 2/165)

"ثم المؤمن علی وجهین: إن کان مطیعاً لایکون له عذاب ویکون له ضغطة، فیجد هول ذلک وخوفه، وإن کان عاصیاً یکون له عذاب القبر وضغطة القبر، لکن ینقطع عنه عذاب القبر یوم الجمعة ولیلة الجمعة، ثم لایعود العذاب إلی یوم القیامة، وإن مات یوم الجمعة أو لیلة الجمعة یکون له العذاب ساعةً واحدةً، وضغطة القبر، ثم ینقطع عنه العذاب، کذا في المعتقدات للشیخ أبي المعین النسفي".  (الأشباہ والنظائر مع: الفن الثالث، الجمع والفرق / القول في أحکام الجمعة ۳؍۲۰۰، شرح الحموي ۵۶۴) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200566

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے