بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

رقم گزشتہ سالوں کی زکاۃ


سوال

میں سعودی عرب میں نوکری کرتا ہوں، میری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے، اور ماں باپ حیات ہیں، الحمد للہ۔  میری تنخواہ 250000 سے 300000 لاکھ کے درمیان ہے، جتنے بھی پیسے ہوتے ہیں ماں باپ کو بھیجتا ہوں اور کچھ اپنے شادی کے لیے اپنے پاس بھی جمع کیے ہیں، اور اس لیے بھی کہ  پاکستان میں آنے کے بعد چھوٹا سا کاروبار شروع کر سکوں ۔ میں  نےکبھی بھی اپنے پیسوں سے زکاۃ نہیں دی ہے، میرے پاس جو  ابھی کیش ہے ،اس وقت میرے پاس ٹوٹل 15 لاکھ روپے موجود ہیں۔

 برائے کرم رہنمائی فرمائیں زکاۃ کے بارے میں کہ میرے اوپر زکاۃ فرض ہے کہ نہیں ؟اور اگر ہے تو کیا طریقہ کار ہے؟

جواب

سائل کے ذمہ  گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کرناواجب ہے ،کیش کی گزشتہ زمانے کی زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ (جب سے صاحبِ نصاب ہیں، اس سال سے)  اگر یہ معلوم ہے کہ گزشتہ سالوں میں سے ہرسال کیش کی مقدار کتنی تھی تو اس حساب سے ہر سال کی رقم سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرے۔

اور اگر گزشتہ سالوں میں سے ہر سال میں رقم کی مقدار معلوم نہیں تو اندازا لگا کر تعیین کرے کہ ہر سال کتنی رقم تھی اور اس میں سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرے، جہاں تک ممکن ہو اس بات کی کوشش کرے کہ اندازا  لگاتے وقت کم اندازا  نہ لگائے، بلکہ کچھ زیادہ ہی لگائے؛ تاکہ ذمہ میں زکاۃ نہ رہ جائے۔

اگر ہر سال کے آخر میں موجود رقم  کا اندازا  لگانا ممکن نہیں تو موجودہ رقم میں سے گزشتوں سالوں کی زکاۃ ادا کرے، مثلًا 15 لاکھ  روپے میں سے ڈھائی فیصد (37500 روپے) پہلے سال کی زکاۃ ہوگی، دوسرے سال  کی زکاۃ کے لیے پہلے سال کی زکاۃ کو کل رقم میں سے منفی کیا جائے اور حاصل کا چالیسواں حصہ (یعنی ڈھائی فیصد) زکاۃ دی جائے، لہذا 14 لاکھ 62 ہزار پانچ سو  کی  ڈھائی فیصد (36562.50 روپے) زکاۃ ادا  کی جائے گی،  تیسرے سال  کے لیے پہلے دونوں سالوں کی زکاۃ (36562.50 + 37500  یعنی 74062.50) منفی کرکے 1425937.50 روپوں کی زکاۃ (35648.43روپے)  ادا کی جائے، اس طرح بقیہ سالوں کی زکاۃ ادا کی جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم". (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ۲/ ۷ ط: سعيد)

نوٹ: صاحبِ نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ضرورت سے زائد  اتنی رقم موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا رقم تو اتنی موجود نہ ہو، لیکن رقم کے ساتھ کچھ زیور (سونا، یا چاندی) یا مالِ تجارت موجود ہو، اور ان سب چیزوں کی یا (ان چار اشیاء میں سے) جو چیزیں ملکیت میں ہوں، ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200859

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے