بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رقم کسی مخصوص کام میں لگائی، انوسٹر کو معلوم نہیں کہ وہ کام ہوا یا نہیں تو نفع کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

ایک صاحب نے کچھ رقم کسی کام میں سرمایہ کے لیے مجھ سے لی ہے، اور یہ بھی بتایا ہے کہ میں یہ کام کروں گا، اور جو بھی نفع ہوگا وہ میں آپ کو  آپ کے پیسوں کے ساتھ واپس کردوں گا، اب مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر وہ صاحب ان پیسوں سے وہ کام نہ کریں یا اپنے کسی کام میں خرچ کر لیں، جب کہ مجھ کو یہ بات معلوم نہ ہو ، پھر وقت آنے پر میرا پیسہ نفع کے ساتھ واپس بھی کر دیں، تو آیا یہ پیسہ میرے لیے حلال ہوگا؟

جواب

مذکورہ عقد بنیادی طور پر ہی ناجائز ہے، کیوں کہ آپ کے جاننے والے مذکورہ شخص نے آپ سے کہا ہے کہ وہ نفع آپ کے پیسوں کے ساتھ واپس کرے گا، یعنی وہ آپ کی اصل رقم کی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ ساتھ آپ کو نفع دے رہاہے، اور یہ صورت قرض پر نفع کی ہے، شرعی طور پر مضاربت اور کاروبار میں نفع کے ساتھ ساتھ نقصان کا رسک بھی برداشت کرنا ہوتاہے۔ 

باقی اگر مضاربت کا معاملہ اصولی طور پر جائز ہو تو رب المال (انویسٹر) کے ذمے یہ تحقیق نہیں ہے کہ مضارب (کام کرنے والے) نے کاروبار کیا ہے یا نہیں؟ اور اسے نقصان ہوا ہے یا نہیں؟ اگر مضارب یہ کہے کہ مجھے نفع ہوا ہے اور وہ نفع دے تو وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن اگر  رب المال کو یقین ہو یا ظن غالب ہو کہ انہوں نے کسی کام میں پیسے نہیں لگائے یا لگائے مگر انہیں نفع نہیں ہوا ہے یا پیسے انہوں نے خود خرچ کرلیے تھے تو آپ کے لیے ان سے نفع لینا جائز نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200248

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے