بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

رفع یدین / قضاء عمری


سوال

1 : رفع یدین سے متعلق احناف اور شوافع کا اختلاف کس نوعیت کا ہے؟ کیا صحیحین سے رفعِ یدین کا ثبوت ملتا ہے؟

2 :  قضاءِ عمری کا حکم اور طریقہ بیان فرمائیں.

جواب

1 : واضح رہے کہ صحیح  احادیث صرف وہی نہیں ہیں جو امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں  ذکر کی ہیں یا جو امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں جمع  کی ہیں، بلکہ امام بخاری نے  اپنی شرائط اور فقہی ذوق کے مطابق صحیح احادیث میں سے انتخاب کرکے اپنی کتاب میں ان کو ذکر کیا ہے، (حدیث اور تاریخ پر امام بخاری رحمہ اللہ کی دیگر کتابیں بھی ہیں، ان میں بہت سی مزید روایات خود امام بخاری رحمہ اللہ نے جمع کی ہیں۔) صحیح بخاری میں سات ہزار  اور کچھ احادیث ہیں، جن کے بارے میں  خود  امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کو  چھ لاکھ احادیث میں سے انتخاب کرکے لیا ہے۔   ابراہیم بن معقل رحمہ اللہ ان سے روایت کرتے ہیں: امام بخاری  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب "صحیح بخاری" میں صرف وہی احادیث ذکر کی ہیں جو صحیح ہوں اور بہت سی  صحیح  احادیث کو طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا ہے۔   نیز خود امام بخاری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جو صحیح احادیث میں نے ذکر نہیں کیں وہ ان سے زیادہ ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔   لہذا صحیح حدیث کا مدار یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح  بخاری میں موجود ہو، ہاں امام بخاری رحمہ اللہ نے  اپنی سخت شرائط کے ساتھ صحیح احادیث میں سے منتخب کرکے  ان میں سے چند کا انتخاب کیا ہے۔

اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہر وہ حدیث جو صحیح ہو، وہ میں نے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کی ہے۔ موطا امام مالک رحمہ اللہ میں بھی صحیح احادیث ہیں، صحیح ابن حبان وغیرہ بھی صحیح ہیں۔ اسی طرح کتب ستہ اور احادیث کی دیگر کتابوں میں بھی صحیح احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

مسئلہ رفع یدین وجوب وعدمِ وجوب سے متعلق نہیں ہے؛ بلکہ صرف سنیت وافضیلت سے متعلق ہے، جن علماء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے، تو ان میں دونوں طرف کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ رفعِ یدین واجب یا لازم نہیں ہے، ان کے درمیان اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفعِ یدین سنت اور افضل ہے یانہیں؟ لہٰذا یہ بات پہلے سے ذہن نشیں ہوجانی چاہیے کہ رفع یدین نہ کرنا ان کے نزدیک بھی گناہ نہیں ہے، جو رفع یدین کے قائل ہیں، اسی طرح رفع یدین کرنا ان کے نزدیک بھی گناہ نہیں ہے جو عدمِ رفع یدین کے قائل ہیں، مسئلہ صرف حصولِ ثواب وفضیلت سے متعلق ہے۔

حنفی مسلک میں متعدد روایاتِ  صحیحہ کی بنیاد پر رفع یدین کاترک افضل ہے۔

1- "عن البراء -رضی الله عنه- قال: رأیت رسول الله صلی الله علیه وسلم رفع یدیه حین استقبل الصلاة، حتی رأیت إبهامیه قریباً من أذنیه، ثم لم یرفعهما". (مسند أبي یعلی الموصلي، دارالکتب العلمیة، بیروت ۲/ ۱۵۳، رقم: ۱۶۸۸، أبوداؤد، الصلاة، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع، النسخة الهندیة ۱/ ۱۰۹، دارالسلام، رقم: ۷۴۹) 
2- " عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، قال: صلیت خلف النبي ﷺ ومع أبي بکر وعمر رضی الله عنهما فلم یرفعوا أیدیهم إلا عند افتتاح الصلاة". (السنن الکبری للبیهقي، دارالکفر بیروت ۲/ ۳۹۳، رقم: ۲۵۸۶)

2 :جو نمازیں قضاء ہوگئی ہوں، ان کی ادائیگی بھی ضروری ہے، خواہ وہ کئی مہینے یا کئی سالوں کی ہوں۔   قضائے عمری کا سہل طریقہ یہ ہے کہ جتنے مہینوں یا سالوں کی نمازیں رہ گئی ہیں اس کا اندازا  کرلیا جائے اور اندازے  میں زیادہ کو اختیار کیا جائے، مثلاً اگر شبہ ہو کہ نوے دن کی نمازیں قضا ہیں یا اسی دن کی تو نوے دن کو مانا جائے اس کے بعد نمازوں کا اندازا  کرلیا جائے، مثلاً 90 نمازیں فجر کی، 90ظہر کی، 90عصرکی،  90 مغرب کی، 90 عشاء کی ، وتر کی 90، ان کو  اسی حساب سے کاغذ وغیرہ پر نوٹ کرلیا جائے اور ہروقت کے ساتھ اس وقت کی قضا نماز ایک، دو، پانچ جتنی پڑھنی ہوں پڑھ لی جائیں اور نماز ادا کرتے وقت یہ نیت کی جائے کہ ظہر یا فجر کی مثلاً پہلی یا آخری چھوٹی ہوئی نماز پڑھ رہا ہوں، اخیر میں جتنی نمازیں پڑھ  لی جائیں اپنے پاس موجود نوٹ کردہ تعداد پر نشان لگادیا جائے؛ تاکہ بقیہ نمازوں کے حساب میں مشکل نہ ہو۔ یا اگر  عام طور پر تو نماز کی عادت تھی، لیکن کبھی کبھار فجر یا کوئی اور نماز اکثر رہ جاتی تھی تو ان نمازوں کا ایک اندازا لگا کررکھ لیں پھر  ان کو ادا کرلیں ۔

جب یہ تمام نمازیں ادا ہو جائیں گی تو آئندہ کے لیے صاحبِ ترتیبی کا حکم ہوگا۔ تاہم قضا  نمازیں اس طور پر پڑھے کہ لوگں کو معلوم نہ ہو کہ نماز کی قضا  کر رہا ہے؛ کیوں کہ گناہ کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے۔

"فالأصل فیه أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فیه فإنه یلزم قضاؤها، سواء ترکها عمداً أو سهواً أو بسبب نوم، وسواء کانت الفوائت قلیلةً أو کثیرةً".(البحرالرائق ج 2 ص 141)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 70):

"(ولايعود) لزوم الترتيب (بعد سقوطه بكثرتها) أي الفوائت (بعود الفوائت إلى القلة ب) سبب (القضاء) لبعضها على المعتمد؛ لأن الساقط لايعود.

(قوله: بسبب القضاء لبعضها) كما إذا ترك رجل صلاة شهر مثلاً ثم قضاها إلا صلاةً، ثم صلى الوقتية ذاكراً لها فإنها صحيحة اهـ بحر. وقيد بقضاء البعض؛ لأنه لو قضى الكل عاد الترتيب عند الكل، كما نقله القهستاني (قوله: على المعتمد) هو أصح الروايتين، وصححه أيضاً في الكافي والمحيط، وفي المعراج وغيره: وعليه الفتوى. وقيل: يعود الترتيب، واختاره في الهداية. ورده في الكافي والتبيين، وأطال فيه البحر. (قوله: لأن الساقط لايعود) وأما إذا قضى الكل فالظاهر أنه يلزمه ترتيب جديد، فلايقال: إنه عاد، تأمل"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 77):
(قوله وينبغي إلخ) تقدم في باب الأذان أنه يكره قضاء الفائتة في المسجد، وعلله الشارح بما هنا من أن التأخير معصية فلا يظهرها. وظاهره أن الممنوع هو القضاء مع الاطلاع عليه، سواء كان في المسجد أو غيره كما أفاده في المنح.
قلت: والظاهر أن ينبغي هنا للوجوب وأن الكراهة تحريمية لأن إظهار المعصية معصية لحديث الصحيحين «كل أمتي معافى إلا المجاهرين، وإن من الجهار أن يعمل الرجل بالليل عملاً ثم يصبح وقد ستره الله فيقول عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه» ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201239

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں