بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رضاعی ماموں سے نکاح کا حکم


سوال

ایک آدمی نے شادی کی اس کے دو بچے ہوئے  ایک 2 سال کا تھا دوسرا 4 ماہ کا تھا کہ اچانک ان بچوں کی ماں اور آدمی کی بیوی وفات پاگئی،  اب اس آدمی کی ماں اور بچوں کی دادی نے دونوں بچوں یعنی پوتوں کو دودھ پلادیا،  اب بچے جوان ہیں اب یہ آدمی اپنے بچوں کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کرنا چاہتا ہے، مطلب اس بوڑھی خاتون کے ایک طرف پوتے ہیں جنہوں نے اس کا دودھ بھی پیا اور دوسری طرف اس بوڑھی عورت کی نواسیاں ہیں جنہوں نے اپنی نانی کا دودھ نہیں پیا، بلکہ اپنی ماں کا پیا، اب پوچھنا یہ ہے کہ  ان کا آپس میں رشتہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بچوں کی دادی نے دو سال اور چار ماہ کی عمر میں  بچوں کو دودھ پلا دیا تو وہ بچے اس دادی کے رضاعی بیٹے بن گئے، اسی طرح اس  دادی کی نواسیوں کے لیے ماموں بن گئے، اور ماموں چوں کہ محرم ہوتا ہے اس سے نکاح جائز نہیں ہوتا؛  اس لیے  مذکورہ بچوں کا نکاح دادی کی نواسیوں سے نہیں ہو سکتا۔ فقط واللہ اعلم
 


فتوی نمبر : 144008201057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے