بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رشتہ داروں کو اطلاع دیے بغیر نکاح کا انعقاد


سوال

میں دبئی میں کام کے سلسلے میں رہائش پذیر ہوں۔ شادی شدہ ہوں اور میرے دو بیٹے (عمر ۲۶ اور ۱۹ سال) اور ایک بیٹی (۲۵ سال) ہیں۔ بیوی اور دو بچے میرے ساتھ رہتے ہیں۔ میں اور ایک رشتہ دار خاتون شادی کرنا چاہتے تھے، میری بیوی اور بچوں نے مخالفت کی۔ نتیجتاً ہم دونوں نے بغیر دونوں طرف کی فیملی کو بتائے ہوئے دو غیر مرد گواہوں کا انتظام کرکے ان کے سامنے ایجاب و قبول کرلیا بعوض ۵ لاکھ مہر ،بغیر کسی دلہن کے یا اپنے گھر والوں کی شمولیت کے۔ نکاح نامہ پرُ کرکے گواہوں کے دستخط کروائے۔ نکاح کے وقت ایک اور صاحب فون پر رہے جنہوں نے گواہوں کا بندوبست کیا تھا۔ دولہن کا کوئی وکیل نہیں تھا۔ دولہن کی عمر ۳۷ سال اور میری ۵۵ سال ہے۔ ابھی دونوں طرف کی فیملی کو نہیں بتا سکتے؛ کیوں کہ جلد میری بیٹی کی شادی متوقع ہے جو متاثر ہو سکتی ہے، جس کے ہونے کے بعد اس نکاح کے اعلان کا ارادہ ہے۔ اب آپ سے یہ جاننا تھا کہ اس طرح شرعی طور پے ہمارا نکاح وقوع پذیر ہوا کہ نہیں؟

جواب

اگر نکاح کی مجلس میں دلہن موجود تھی اور جن دو گواہوں کا ذکر سائل نے کیا وہ مسلمان تھے اور وہ بھی مجلسِ نکاح میں موجود تھے (صرف فون یا انٹرنیٹ پر رابطے میں نہیں تھے) تو سائل کا نکاح منعقد ہوگیاہے۔ اہلِ خاندان کو اطلاع دے کر یا ان کی منظوری سے نکاح کرنابے شک ضروری نہیں ہے، تاہم خفیہ نکاح کرنا بھی شرعاً پسندیدہ نہیں ہے؛ اس لیے بہتر تھا کہ باقاعدہ نکاح کی مجلس منعقد کرکے نکاح کیا جاتا۔

" (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب، بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين… "(فتاوی شامی، ۳/۲۱، سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008202015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے