بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ علیہ وسلم کی قبر پر دعا کرنا


سوال

روضۂ  رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے موقع پر سلام پیش کرنے کے بعد  اپنے نبی سے چپکے چپکے باتیں کی جا سکتی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ انتہائی ادب کا مقام ہے،  جس کی حاضری کے کچھ آداب ہیں، ان آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ وہاں سلام و دعا میں آواز بلند نہ ہو، اور نہ ہی دوسرے  مسلمانوں کے لیے ایذا رسانی کا سبب بنے،  جس کی وجہ سے انتہائی ادب کے ساتھ  پست آواز میں سلام پیش کرنے، دعا کرنے اور شفاعت کی درخواست کرنے کا حکم ہے،  لہذا اگر سلام پیش کرنے کے بعد  وہیں کھڑے ہو کر دعا کرنا، دوسروں کے لیے ایذا رسانی کا باعث ہو تو اس صورت میں ادب سے سلام پیش کرکے آگے بڑھ جانا چاہیے، اور پھر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا چاہیے، نیز روضۂ رسول ﷺ پر اگر دعا کرنے کا موقع ہو تو، اس صورت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضروریات کے بارے میں سوال کرنے کی اجازت نہیں،  ضروریات پوری کرنے والی ذات باری تعالی کی ہے، اسی سے طلب کرنا چاہیے، البتہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے اللہ رب العزت سے سوال کرنا صحیح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔

اور اگر کوئی شخص دوسروں کو ایذا دیے بغیر اور توحید کا پختہ عقیدہ رکھتے ہوئے فرطِ عشق میں یا دنیاوی غم سے مغلوب ہوکر روضۂ پاک پر دل دل میں اپنی کیفیت یا غم کہہ دیتا ہے تو اس کی ممانعت نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے روضۂ مبارکہ میں حیات ہیں اور وہاں حاضر ہوکر سلام پیش کرنے والوں کا سلام سنتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں، لہٰذا جس طرح دنیا میں موجود ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دل کا درد بیان کرنا درست تھا اسی طرح آپ ﷺ کے روضۂ مبارکہ پر حاضر ہوکر دل کی حالت بیان کرنا ممنوع نہیں ہے، اور جس طرح رسول اللہ ﷺ کی دنیوی حیات میں آپ ﷺ سے مافوق الاسباب مانگنا اور دعا کرنا منع تھا اسی طرح دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی اس کی ممانعت ہوگی۔

الموسوعة الفقهية الكويتيةمیں ہے:

صِفَةُ زِيَارَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

7 - إِذَا أَرَادَ الزَّائِرُ زِيَارَتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْوِ زِيَارَةَ مَسْجِدِهِ الشَّرِيفِ أَيْضًا، لِتَحْصُل سُنَّةُ زِيَارَةِ الْمَسْجِدِ وَثَوَابِهَا. وَإِذَا عَايَنَ بَسَاتِينَ الْمَدِينَةِ صَلَّى عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَال: اللَّهُمَّ هَذَا حَرَمُ نَبِيِّكَ فَاجْعَلْهُ وِقَايَةً لِي مِنَ النَّارِ وَأَمَانًا مِنَ الْعَذَابِ وَسُوءِ الْحِسَابِ. وَإِذَا وَصَل بَابَ الْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ دَخَل وَهُوَ يَقُول الذِّكْرَ الْمَعْرُوفَ عِنْدَ دُخُول الْمَسَاجِدِ: " اللَّهُمَّ صَل عَلَى مُحَمَّدٍ، رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ". وَعِنْدَ الْخُرُوجِ يَقُول ذَلِكَ، لَكِنْ بِلَفْظِ " وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ ". وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ يَقْصِدُ الْحُجْرَةَ الشَّرِيفَةَ الَّتِي فِيهَا قَبْرُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَيَسْتَدْبِرُ الْقِبْلَةَ وَيَسْتَقْبِل الْقَبْرَ وَيَقِفُ أَمَامَ النَّافِذَةِ الدَّائِرِيَّةِ الْيُسْرَى مُبْتَعِدًا عَنْهَا قَدْرَ أَرْبَعَةِ أَذْرُعٍ إِجْلاَلاً وَتَأَدُّبًا مَعَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَمَامَ وَجْهِ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ دُونَ أَنْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ، بِأَيِّ صِيغَةٍ تَحْضُرُهُ مِنْ صِيَغِ التَّسْلِيمِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُرْدِفُ ذَلِكَ بِالصَّلاَةِ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَحْضُرُهُ أَيْضًا.

8 - وَقَدْ أَوْرَدَ الْعُلَمَاءُ عِبَارَاتٍ كَثِيرَةً صَاغُوهَا لِتَعْلِيمِ النَّاسِ، ضَمَّنُوهَا ثَنَاءً عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَدْعُو الإِْنْسَانُ بِدُعَاءِ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَيُصَلِّي وَيُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَدْعُو بِمَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ.

9 - وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ قَدْ أَوْصَاهُ بِالسَّلاَمِ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقُل: السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُول اللَّهِ مِنْ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ، أَوْ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ يُسَلِّمُ عَلَيْكَ يَا رَسُول اللَّهِ، أَوْ مَا شَابَهُ ذَلِكَ.

10 - ثُمَّ يَتَأَخَّرُ إِلَى صَوْبِ الْيَمِينِ قَدْرَ ذِرَاعِ الْيَدِ لِلسَّلاَمِ عَلَى الصِّدِّيقِ الأَْكْبَرِ سَيِّدِنَا أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لأَِنَّ رَأْسَهُ عِنْدَ كَتِفِ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ بِمَا يَحْضُرُهُ مِنَ الأَْلْفَاظِ الَّتِي تَلِيقُ بِمَقَامِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

11 - ثُمَّ يَتَنَحَّى صَوْبَ الْيَمِينِ قَدْرَ ذِرَاعٍ لِلسَّلاَمِ عَلَى الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإِْسْلاَمَ سَيِّدِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ بِمَا يَحْضُرُهُ مِنَ الأَْلْفَاظِ الَّتِي تَلِيقُ بِمَقَامِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. 12 - ثُمَّ يَرْجِعُ لِيَقِفَ قُبَالَةَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالأَْوَّل، وَيَدْعُو مُتَشَفِّعًا بِهِ بِمَا شَاءَ مِنَ الْخَيْرَاتِ لَهُ وَلِمَنْ يُحِبُّ وَلِلْمُسْلِمِينَ. وَيُرَاعِي فِي كُل ذَلِكَ أَحْوَال الزِّحَامِ بِحَيْثُ لاَ يُؤْذِي مُسْلِمًا". ( ٢٤ / ٨٦ - ٨٧)

و فيه أيضًا:

"مَا يُكْرَهُ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

6 - يَقَعُ لِكَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ أُمُورٌ مَكْرُوهَةٌ فِي زِيَارَتِهِمْ لِقَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُشِيرُ إِلَى أَهَمِّهَا:

1 - التَّزَاحُمُ عِنْدَ الزِّيَارَةِ، وَذَلِكَ أَمْرٌ لاَ مُوجِبَ لَهُ، بَل هُوَ خِلاَفُ الأَْدَبِ، لاَ سِيَّمَا إِذَا أَدَّى إِلَى زِحَامِ النِّسَاءِ فَإِنَّ الأَْمْرَ شَدِيدٌ.

2 - رَفْعُ الأَْصْوَاتِ بِالصَّلاَةِ وَالسَّلاَمِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ زِيَارَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

3 - التَّمَسُّحُ بِقَبْرِهِ الشَّرِيفِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بِشُبَّاكِ حُجْرَتِهِ. أَوْ إِلْصَاقُ الظَّهْرِ أَوِ الْبَطْنِ بِجِدَارِ الْقَبْرِ". ( ٢٤ / ٨٥)

تفسیر ابن کثیر، النساء:64:

 

{وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا} [النساء:64]

"وقوله : {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابًا رحيمًا} يرشد تعالى العصاة والمذنبين إذا وقع منهم الخطأ والعصيان أن يأتوا إلى الرسول صلى الله عليه وسلم فيستغفروا الله عنده، ويسألوه أن يستغفر لهم، فإنهم إذا فعلوا ذلك تاب الله عليهم ورحمهم وغفر لهم، ولهذا قال: {لوجدوا الله توابًا رحيمًا}

 وقد ذكر جماعة منهم : الشيخ أبو نصر بن الصباغ في كتابه "الشامل" الحكاية المشهورة عن العتبي، قال: كنت جالسًا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي فقال: السلام عليك يا رسول الله، سمعت الله يقول: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابًا رحيمًا} وقد جئتك مستغفرًا لذنبي مستشفعًا بك إلى ربي، ثم أنشأ يقول:
يا خير من دفنت بالقاع أعظمه          فطاب من طيبهن القاع والأكم

نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه            فيه العفاف وفيه الجود والكرم
ثم انصرف الأعرابي فغلبتني عيني، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم فقال: يا عتبي، الحق الأعرابي فبشره أن الله قد غفر له!" فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144103200267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے