بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

"رزق عورت کے نصیب سے ملتا ہے اور اولاد مرد کے نصیب سے" کی تحقیق


سوال

کیا یہ بات درست ہے کہ رزق عورت کے نصیب سے ملتا ہے اور اولاد مرد کے نصیب سے؟  کیا احادیث میں اس سے متعلق کچھ بات آئی ہے؟  اور یہ بات کہنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

اولاد میاں بیوی دونوں ہی کا نصیب ہوتا ہے۔ارشادِ  باری تعالی ہے:

{یخلق ما یشاء لمن یشاء ویهب لم یشاء اناثا ویهب لمن یشاء الذکور او یزوجهم ذکرانا واناثا} (شوری)
ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،  جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔

نیز رزق ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ مخصوص و متعین ہے۔

چناچہ اللہ تعالی نے قرآنِ  کریم میں پارہ 12 سورہ ھود کی آیت نمبر 06 میں ارشاد فرمایا:

{وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ}

ترجمہ: زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جان دار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالٰی پر ہیں، وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔

بخاری شریف کی حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب بچہ چارہ ماہ کا ہوتا ہے تو  اللہ رب العزت فرشتہ کو بھیجتا ہے اور اس کا رزق لکھواتا ہے، گویا اس کا رزق پہلے سے ہی مختص کر دیا جاتا ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۔

لہذا مذکورہ جملے کی کوئی اصل نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے