بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

رخصت ہوتے وقت اللہ حافظ یا فی امان اللہ کہنے کا حکم


سوال

 جب گھر سے باہر جاتے ہیں تو گھر والے ’’اللّٰہ حافظ ‘‘  یا ’’فی امان اللہ‘‘  کہتے ہیں۔جب کہ میں نے سنا ہے گھر سے نکلتے وقت گھر والوں کو ’’السلام علیکم‘‘  بولنا چاہیے۔ راہ نمائی فرمادیں!

جواب

جس طرح سے کسی مجلس یا گھر میں آنے والے شخص کے لیے حکمِ مسنون یہ ہے کہ وہ ’’السلام علیکم‘‘ کہے، اسی طرح رخصت ہوتے وقت بھی ’’السلام علیکم‘‘  کہنا مسنون ہے، پس جانے والے شخص کو  بھی  ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘  کہنے کی عادت ڈالنی  چاہیے، ’’السلام علیکم‘‘ کے الفاظ چھوڑ کر اس کے ہم معنی الفاظ یا ’’اللہ حافظ‘‘  یا ’’خدا حافظ‘‘  یا ’’فی امان اللہ‘‘ وغیرہ الفاظ کہنا اگرچہ فی نفسہ جائز ہے، تاہم اس سے سنت ترک کرنا لازم آئے گا، اس لیے مسلمانوں کو ملاقات کرتے وقت اور رخصت ہونے کے وقت سلام کی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔

اسلام نے ملاقات کے وقت ہمیں وہ کلمات سکھائے ہیں جن سے بہتر کوئی دعا نہیں ہوسکتی، یہ سلام انبیاءِ کرام علیہم السلام کا بھی سلام رہاہے، اور اہلِ جنت کا بھی سلام ہوگا، ان کلمات کی ادائیگی میں ثواب بھی ہے اور دین و دنیا کی برکات اور خیر بھی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم لوگ جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ مؤمن نہ بن جاؤ، اور تم (کامل) ایمان والے نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ تم آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤ کہ جب وہ کرنے لگو تو آپس میں محبت کرنے لگو! اپنے درمیان ’’سلام‘‘ عام کرو! (صحیح مسلم)

سنن أبي داؤدمیں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "إذا انتهى أحدُكم إلى المجلس فليُسَلِّم، فإذا أرادَ أن يقومَ فليُسَلِّم، فليست الأولى بأحقَّ مِن الآخِرَة". ( ١٥٠ - باب في السَّلامِ إذا قامَ مِن المجلس، رقم:٥٢٠٨، ٧ / ٥٠٠)

"تحفة الأحوذي" میں ہے:

"قَالَ الطِّيبِيُّ : أَيْ كَمَا أَنَّ التَّسْلِيمَةَ الْأُولَى إِخْبَارٌ عَنْ سَلَامَتِهِمْ مِنْ شَرِّهِ عِنْدَ الْحُضُورِ فَكَذَلِكَ الثَّانِيَةُ إِخْبَارٌ عَنْ سَلَامَتِهِمْ مِنْ شَرِّهِ عِنْدَ الْغَيْبَةِ، وَلَيْسَتْ السَّلَامَةُ عِنْدَ الْحُضُورِ أَوْلَى مِنْ السَّلَامَةِ عِنْدَ الْغَيْبَةِ بَلْ الثَّانِيَةُ أَوْلَى" اِنْتَهَى". ( ٧ / ٤٠٢ - ٤٠٣)

فتاوی شامی میں ہے:

"عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إذَا أَتَيْتُمْ الْمَجْلِسَ فَسَلِّمُوا عَلَى الْقَوْمِ، وَإِذَا رَجَعْتُمْ فَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ؛ فَإِنَّ التَّسْلِيمَ عِنْدَ الرُّجُوعِ أَفْضَلُ مِنْ التَّسْلِيمِ الْأَوَّلِ»". ( ٦ / ٤١٦) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے