بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجانے کی صوت میں مہر کا حکم


سوال

نکاح کےبعد اور رخصتی سے پہلی لڑکے کا انتقال ہوگیا توان حالات میں حقِ  مہر اداکرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

موت ایک ایسا حادثہ ہے جس کی وجہ سے مہر متأکد (یعنی شوہر کے ذمہ لازم) ہوجاتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب نکاح کے بعد اور رخصتی یا خلوتِ صحیحہ سے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا تو بھی بیوہ نکاح کے وقت مقرر کیے گئے مہر کی مستحق ہے، اسے پورا مہر ادا کرنا لازم ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 303):
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لايسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں