بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل لڑکی کے انتقال پر شوہرکو اس کی میراث میں سے حصہ


سوال

ایک لڑکی کی منگنی ہوئی، باقاعدہ نکاح بھی ہوا، رخصتی سے قبل لڑکی کا والد کےگھر میں انتقال ہوا، تو کیا اس لڑکی کے شوہرکو اس کی میراث میں سے کچھ حصہ ملےگا یا نہیں ؟

جواب

اگر چہ رخصتی نہیں ہوئی پھر بھی شوہر ہونے کی حیثیت سے اس کو میراث ملے گی۔

لعموم قوله تعالى: {وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء/12]

المبسوط للسرخسي (29/ 174):
"(قَالَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -): أَصْحَابُ الْمَوَارِيثِ بِالِاتِّفَاقِ صِنْفَانِ أَصْحَابُ الْفَرَائِضِ وَالْعَصَبَاتُ فَأَصْحَابُ الْفَرَائِضِ اثْنَا عَشَرَ نَفَرًا: أَرْبَعَةٌ مِنْ الرِّجَالِ، وَثَمَانِيَةٌ مِنْ النِّسَاءِ. فَالرِّجَالُ: الْأَبُ وَالْجَدُّ وَالزَّوْجُ وَالْأَخُ لِأُمٍّ. وَالنِّسَاءُ: الْأُمُّ وَالْجَدَّةُ وَالْبِنْتُ وَبِنْتُ الِابْنِ وَالْأُخْتُ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَالْأُخْتُ لِأَبٍ وَالْأُخْتُ لِأُمٍّ وَالزَّوْجَةُ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200635

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے