بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

رحم نکالنے کے بعد آنے والے خون کا حکم


سوال

ایک عورت کے رحم میں زخم ہوگیا تھا، تو ڈاکٹروں نے اس کے رحم کو نکال دیا، لیکن پھر بھی اس عورت کو مستقل خون آتا ہے ،اس خون کا حکم مکمل تفصیل اور دلیل کے ساتھ ذکر فرمادیں!

جواب

جس خاتون کے رحم میں زخم ہوگیا تھا اور ڈاکٹروں نے اس رحم کو نکال دیا،  پھر بھی اس عورت کو مستقل خون آتا ہے تو یہ خون حیض کا نہیں، استحاضہ کا خون ہے، اس کی وجہ سے نماز، روزہ، قرآن کی تلاوت وغیرہ کرنا حرام نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 283):

"(هو) لغةً: السيلان. وشرعًا: على القول بأنه من الأحداث: مانعية شرعية بسبب الدم المذكور. وعلى القول بأنه من الأنجاس (دم من رحم) خرج الاستحاضة، ومنه ما تراه صغيرة وآيسة ومشكل (لا لولادة) خرج النفاس".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200248

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے