بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کا طریقہ


سوال

 میں نے غصے میں  آ کر اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے،  رجوع کرنے کا طریقہ بتائیں اور کفارہ دینےکا طریقہ!

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر طلاق کے صریح لفظ سے طلاق دی ہے  (یعنی طلاق کنائی نہیں ہوئی) تو  رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو زبان سے یہ کہہ دے کہ میں تم سے رجوع کرتا ہوں اور اس پر دوگواہ بھی قائم کردے، اگرشوہر  حقوقِ زوجیت  ادا کردے اور منہ سے  رجوع کا نہ کہے تو بھی رجوع ہوجائے گا، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔البتہ رجوع  صرف عدت (یعنی حمل نہ ہو تو  تین ماہ واری تک اور اگر حمل ہوتو وضع حمل تک) میں ہوتا ہے، عدت گزر جانے کے بعد ایک یا دو طلاق دی ہوں تو نئے مہر کے تقرر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوتی ہے.

طلاق دینے کا کوئی کفارہ نہیں ہوتا، بس اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جذبات میں ان الفاظ کے استعمال  کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، آئندہ احتیاط کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200453

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں