بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و جلوس کا انعقاد کرنا


سوال

ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و خلوس کا انعقاد کرنا اور ماہ ربیع الاول کے آنے سے پہلے عوام کو خبردار کرنا اور ان سے مشورہ کرکے جلسہ کے لیے ربیع الاول کی تاریخ طے کرنا اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اجتماعی جلسوں کا شیڈول ترتیب دینا کہ ایک ہی اشتہار میں اپنے علاقہ کی مختلف مساجد میں ربیع الاول میں روز و شب جلسوں کی ترتیب رکھنا اور عوام کو فضائل سنا کر جلسوں کے اخراجات چندہ کرکے وصول کرنا جیسے شرکاء کے کھانے پینے خطیبوں اور مقررین کے اخراجات و وظائف و ہدایا کے لیے  چندہ وصول کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں؟

جواب

 اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور بعثت  امت محمدیہ کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اس کو نہ ہو، لیکن محبت سچی اورقابل قبول اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ وہ شرعی اصولوں سے نہ ٹکراتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر  بیان وتقریر کرنا کارِ ثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو۔

ماہ ربیع الاول  کو خاص کرکے میلاد النبی،  سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ جلوس کا انعقادکرنا، جشن وتہوار منانا، اور اس عنوان سے چندہ  وصول کرنا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام سے۔حالاں کہ صحابہٴ کرام سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، اس کے باوجود صحابہٴ کرام سے کہیں اس کا ثبوت نہیں۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد بغیر کسی چندہ مہم کے اور بغیر کسی تخصیص وتعیین کے وقتا فوقتا  حدود شرع میں رہتے ہوئے ہوتا رہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوتا، لیکن افسوس کہ اس کے برعکس اپنی دینداری اور محبت نبوی کو چند ایام میں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور پھر سال بھر آزاد چھوڑ دیاگیا ہے۔جس کو امت کے نباض علماء نے بدعات میں شمار کیا ہے۔

المدخل میں ہے:

 " ومن جملة ما أحدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أکبر العبادات وإظهار شرائع یفعلونه في شهر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة الخ (المدخل ۲/۳)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143803200014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں