بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

ذروہ نام رکھنا


سوال

"ذروہ"  نام رکھنا چاہیے؟ذ کے  زبر کے ساتھ ہے؟

جواب

"ذروہ"  کسی بھی چیز کی  چوٹی اور بلندی کو کہتے ہیں۔اور "ذ" کے زیر یا پیش کے ساتھ ہے۔ اس کی جمع ذری آتی ہے۔

اگر یہ "ذ"  کے زبر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی مال کے آتے ہیں ۔

یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ لیکن صحابہ اور صحابیات کے ناموں پر نام رکھنا باعثِ برکت ہوتا ہے؛ اس لیے ان کے ناموں میں سے ہو تو بہتر ہے۔

المعجم المفهرس لألفاظ الحديث النبوي ج2:

حدیث میں ہے: فامر لنا بخمس ذود غر الذری

الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (6/ 2460):
"القَرْوُ: قدحٌ من خشب. والقرو: ميلغ الكلب. والقروة: الميلغة. والقرو: أسفل النخلة يُنْقَرُ فينبَذ فيه. والقَرْوُ والقَروَةُ: أن يعظم جلد البيضتين لريحٍ فيه أو ماء، أو لنزول الامعاء. والرجل قروانى وقول الكميت: فاشتك خصييه إيغالا بنافذة * كأنما فجرت من قرو عصار يعنى المعصرة. والقرو: حوض طويل مثل النهر تَرِدُهُ الإبل. ويقال: تركت الأرض قَرْواً واحداً، إذا طبَّقها المطر. ورأيت القوم على قَروٍ واحدٍ، أي على طريقةٍ واحدة. والقَرا: الظهر. والقَرْيةُ معروفة، والجمع القُرى على غير قياس لان ما كان على فعلة بفتح الفاء من المعتل فجمعه ممدود، مثل ركوة وركاء، وظبية وظباء. وجاء القرى مخالفا لبابه لا يقاس عليه. ويقال: قرية لغة يمانية، ولعلها جمعت على ذلك مثل ذروة وذرى، ولحية ولحى، والنسبة إليها قروى".

النهاية في غريب الحديث والأثر (2/ 159):
"(س) وَفِيهِ «أوّلُ الثَّلَاثَةِ يَدْخُلُونَ النَّارَ مِنْهُمْ ذُو ذَرْوَةٍ لَا يُعطي حقَّ اللَّهِ مِنْ مَالِهِ» أَيْ ذُو ثَرْوه، وَهِيَ الجِدَة والمالُ، وَهُوَ مِنْ بَابِ الاعْتقَاب لاشْتراكهما فِي المَخْرج.
وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُوسَى «أُتِي رسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإبِلٍ غُرِّ الذُّرَى» أَيْ بيضِ الأسْنِمَة سِمانِها. والذُّرَى: جَمْعُ ذِرْوَةٍ وَهِيَ أعْلَى سَنام البَعير. وذِرْوَةُ كُلِّ شَيْءٍ أَعْلَاهُ.
(هـ) وَمِنْهُ الْحَدِيثُ «عَلَى ذِرْوَةِ كُلِّ بعيرٍ شَيْطَانٌ»".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے