بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ذات بدلنا


سوال

سنا ہے کہ اپنی ذات بدلنا منع ہے یہ گناہ ہے،  یعنی cast یا sir name بدلنا،  تو اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے قبیلے / خاندان کے علاوہ کسی اور خاندان یا نسل کی طرف خود کو منسوب کرے، اس لیے کہ ایسا کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور حدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔

"حدثنا أبو معمر حدثنا عبدالوارث عن الحسين عن عبدالله بن بريدة قال: حدثني يحيى بن يعمر أن أبا الأسود الديلي حدثه عن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى قومًا ليس له فيهم فليتبوأ مقعده من النار". (صحيح البخاري 4/180)

ترجمہ: ۔۔۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ اس بات کو جانتا بھی ہو تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتا ہے، اور جو شخص کسی ایک قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں اس کا کوئی قرابت دار نہ ہو تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے۔

قال ابن حجر رحمه الله:

"وفي الحديث تحريم الانتفاء من النسب المعروف، والادعاء إلى غيره، وقيد في الحديث بالعلم، ولا بد منه في الحالتين، إثباتاً ونفياً، لأن الإثم إنّما يترتب على العالم بالشيء المتعمد له، انتهى". (فتح الباري: 6/541)

نیز کوئی شخص جانتے بوجھتے اپنی نسبت اپنی قوم یا قبیلے کو چھو ڑکر کسی دوسری قوم کی طرف عموماً اپنے نسب کو  ہیچ سمجھنے اور دوسری اقوام کو صاحبِ فضیلت سمجھنے کی وجہ سے کرتا ہے، حال آں کہ اسلام نے نسبی امتیاز کو وجہ فضیلت سمجھنے کی تردید کی ہے۔

چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

{يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلنا كم شعوباً وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} (الحجرات: 13)

ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے؛  تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔

قرآنِ مجید کی اس آیت سے صاف طور پر واضح ہوگیا کہ عزت وبلندی قوم ونسل کی وجہ سے نہیں، بلکہ تقویٰ وپرہیزگاری کی وجہ سے ہے، لہٰذا اپنا نسب بدلنے سے خوب بچنا چاہیے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے