بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دیوالی کے موقع ہندو دوست کی جانب سے بھیجی گئی مٹھائی کا حکم


سوال

دیوالی کے موقع پر میرا ہندو دوست میرے پاس مٹھائی لے کر آیا تھا،  وہ کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے دی گئی مٹھائی وغیرہ کے متعلق اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھائی ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ پھر بھی احتیاط بہترہے۔مزید یہ کہ اگر غیر مسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز پیش کرے تو اسے تہوار کی مبارک باد ہرگز نہ دی جائے۔ اور غیرمسلموں سے دلی تعلق نہ رکھا جائے۔ 

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’سوال: اگر کسی مسلمان کے رشتہ دار ہندو کے گاؤں میں رہتے ہوں اور ہندو کے تہوار ہولی دیوالی وغیرہ پکوان، پوری، کچوری وغیرہ پکاتے ہیں، ان کا کھانا ہم لوگوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:جوکھانا کچوری وغیرہ ہندو کسی اپنے ملنے والے مسلمان کو دیں اس کا نہ لینا بہتر ہے، لیکن اگر کسی مصلحت سے لے لیا تو شرعاً اس کھانے کو حرام نہ کہا جائے گا۔ (ج:۱۸،ص:۳۴، ط:فاروقیہ)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں