بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دیوالی کے موقع پر دی جانے والی مٹھائی کھانے کا حکم


سوال

میرا ایک دوست ہندو ہے، وہ آفس میں دیوالی کی مٹھائی لایا تھا، ہم لوگوں میں کچھ نے کھا لی اور کچھ نے نہیں کھائی، کھانے والوں میں میں بھی شامل تھا تو کیا اس کی مٹھائی کھانا جائز ہے؟

جواب

دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے دی گئی مٹھائی وغیرہ کے متعلق اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھائی ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، نیز دینے والوں کی آمدنی بھی حلال ہو تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ پھر بھی احتیاط بہترہے۔مزید یہ کہ اگر غیر مسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز پیش کرے تو اسے تہوار کی مبارک باد ہرگز نہ دی جائے۔   اور غیرمسلموں سے دلی تعلق و دوستانہ نہ رکھا جائے۔ 

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’سوال: اگر کسی مسلمان کے رشتہ دار ہندو کے گاؤں میں رہتے ہوں اور ہندو کے تہوار ہولی دیوالی وغیرہ پکوان، پوری، کچوری وغیرہ پکاتے ہیں، ان کا کھانا ہم لوگوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:جوکھانا کچوری وغیرہ ہندو کسی اپنے ملنے والے مسلمان کو دیں اس کا نہ لینا بہتر ہے، لیکن اگر کسی مصلحت سے لے لیا تو شرعاً اس کھانے کو حرام نہ کہا جائے گا۔ (ج:۱۸،ص:۳۴، ط:فاروقیہ)فقط واللہ اعلم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 754):
"ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لايكفر، وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفياً للشبهة".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے