بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دھوکے سے رقم وصول کرنا


سوال

ایک بندے کو  مکان تعمیر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، مگر اس کے ساتھ مالک نے اس کی مزدوری طے نہیں کی، اور ذمہ دار مزدوری لینے کی نیت بھی نہیں کرتا،  اب ذمہ دار اپنی مزدوری مٹیریل خریدکر اس میں سے ہی پوری کرتا ہے، مثلاً سیمنٹ 510 کی بوری کے حساب سے 20 بوریاں 10200 کی خرید کر مالک کو 530×20= 10600 ظاہر کر کے 400 روپے کما لیتا ہے تو کیا ذمہ دار کے لیے یہ 400 حلال ہوں گے، جب کہ مارکیٹ میں بھی مٹیریل کا اتار چڑھاؤ ہے؟  اسی طرح ریت، بجری وغیرہ وغیرہ سے  تھوڑے  تھوڑے  پیسے رکھ  کر  اپنی کمائی کرتا ہے،  کیا یہ ذمہ دار کے لیے جائز ہے؟ واضح رہے کہ مالک اور ذمہ دار رشتہ دا رہیں، ذمہ دارکی نیت اس رشتہ دار سے مزدوری لینے کی نہیں ہے۔

جواب

جب مذکورہ ذمہ دار کی نیت مالک سے مزدوری لینے کی نہیں ہے اور نہ ہی یہ شخص بطور مزدوری کے یہ کام سرانجام دے رہاہے تو اس صورت میں  مٹیریل کی اصل  قیمتِ خریدکے بجائے رقم  بڑھاکر بتانا اور مالک سے  زائد رقم اس طریقے سے وصول کرناجھوٹ اور دھوکے   کی بنا پر  جائز نہیں ہے۔اگر یہ شخص مکان بنانے کی ذمہ داری لیتاہے اور اسے اجرت کی ضرورت ہے تو اس طرح دھوکا دہی کے بجائے مالک کے ساتھ باقاعدہ اپنی مزدوری طے کرلے یاٹھیکہ داری کی صورت میں تعمیر کی مجموعی رقم طے کرکے اس میں سے اپنی اجرت وصول کرلے۔لیکن مذکورہ طریقہ پر رقم لیناشرعاً جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200378

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے