بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جُمادى الأولى 1441ھ- 25 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

دکان کی زکاۃ سامان کی مالیت پر ہے یا منافع پر؟


سوال

دکان کی زکاۃ سامان کی مالیت پر ہے یا منافع پر?

جواب

سامانِ تجارت کی قیمتِ فروخت پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، لہٰذا جب زکاۃ کا سال مکمل ہو اس وقت دیکھ لیا جائے کہ دکان میں جتنا سامانِ تجارت موجود ہے، اس کی موجودہ بازاری قیمت اور ضرورت سے زائد جتنی رقم یا زیور ملکیت میں موجود ہو اس کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو اس  پر زکاۃ واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے