بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو گھر اپنے ہوں تو عورت کس گھر میں عدت گزارے گی؟


سوال

عورت اپنی عدت دو گھروں میں گزار سکتی ہے جب کہ دونوں گھر اپنے ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شوہر کی جدائی ( انتقال یا طلاق ) کے وقت، شوہر کے جس گھر میں  مذکورہ عورت کی رہائش تھی اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536):
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے