بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1441ھ- 17 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا


سوال

ایک جگہ صرف دو گواہ, لڑکی اور لڑکا موجود تھے،  لڑکے نے لڑکی سے کہا: میں نے ان دو گواہوں کی موجودگی میں آپ سے نکاح کیا،  لڑکی نے کہا: میں نے قبول کیا، اور وہ دونوں  ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں آپس  میں منگیتر بھی ہیں، کیا مذکورہ بالا صورت میں نکاح منعقد ہوگیا؟  مع حوالہ جواب عنایت فرمادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر دولہا اور دلہن کے علاوہ دو گواہ موجود تھے اور دونوں نے ان گواہوں کی موجود گی میں ایجاب و قبول کر لیا تو دونوں کا نکاح درست ہو گیا، دونوں میاں بیوی ہیں، لیکن اس طرح نکاح کرنے سے متعدد مفاسد  جنم لیتے ہیں؛ اس لیے اس  صورت سے احتراز کرنا چاہیے۔ اور مہر ذکر نہ کرنے کی صورت میں مہرِ مثل لازم ہو گا۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 332):
"والأصل هنا أن كل من يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه يجوز نكاحه على نفسه، وكل من لايجوز لا".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے