بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو لاکھ روپے قرض میں دے کر صدقہ فطر لینے کا حکم


سوال

ایک شخص 2 لاکھ روپےکا قرض خواہ ہے اور فی الوقت اس کا کوئی ذریعہ آمدن خاص نہیں ہے، اگر ہے بھی تو اتنا ہے کہ بمشکل گزارا ہوتا ہے.کیا ایسے شخص کو صدقہ فطر دینا جائز ہے ?

جواب

اگر اس شخص کو اپنا قرض واپس ملنے کی امید ہے یعنی مقروض انکارنہیں کرتاتو یہ شخص دو لاکھ روپے کا مالک ہے اورجو آدمی دو لاکھ روپے کا مالک ہو وہ صدقہ فطر لینے کا اہل نہیں ہے، یہ اپنے مقروض سے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کرے ، بصورتِ دیگر اس کی ضروریات کےلیے عطیہ یا نفلی صدقہ سے اس کی مدد کی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے