بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو طلاقوں کے بعد خلع لینے کا حکم


سوال

اگر خاوند نے پہلے دو طلاقیں الگ الگ وقتوں میں دے کر رجوع کر لیا ہو۔ اور اب بیوی خلع حاصل کر لے تو کیا فریقین کے درمیان ہمیشہ کی جدائی ہو جائے گی؟ یعنی ان کی نئے نکاح کے ساتھ خانہ آبادی نہیں ہوسکتی؟

جواب

خلع کی حیثیت شریعتِ مطہرہ میں طلاقِ بائن کی ہے، لہٰذا اگر دو طلاقوں کے بعد باہمی رضامندی سے خلع واقع ہوجائے تو مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہونے کی وجہ سے یہ تین مغلظہ طلاقیں بن جائیں گی، دونوں کا نکاح ٹوٹ جائے گا، بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، رجوع بھی جائز نہیں ہوگا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر عورت نے عدالت سے یک طرفہ خلع حاصل کرلیا ہو  اور خلع کا فیصلہ آنے کے بعد بھی نہ تو شوہر نے زبانی اس فیصلے کو تسلیم کیا ہو اور نہ ہی اس پر دستخط کیے ہوں تو ایسا خلع شرعاً معتبر نہیں ہے اور اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے