بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دو سال میں قسطوں کی صورت میں ادائیگی کی شرط پر مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر گاڑی خریدنا جائز ہے یا نہیں؟


سوال

بندہ کمپنی سے ایک گاڑی نقد پر خریدتا ہے 78000 میں۔ اگر یہی گاڑی ماہانہ اقساط پر لیتاہےتو بندہ ایک سال قسطیں ادا کرےگا اور ایڈوانس میں صرف15600 دیناہوگا باقی ماہانہ 5200 اداکرنا ہوگا۔ اگر اس سے بھی آسان قسطوں پر لینا ہو تو پھر اس حالت میں بندہ کو وہی 15600 ایڈوانس دیناہوگا اور پھر ماہانہ 2700 دیناہوگا تو اس حالت میں 1 سال کی جگہ 2 سال کا دورانیہ ہوا جو آسان ہے، لیکن اس حالت میں پھر گاڑی کی کل قیمت 78000 نہیں ہوگی، بلکہ 3000 زیادہ دیناہوگا یعنی 81000۔ کیا ایسی ترتیب جائز ہے جو  2 سال کا وقت بھی دیتاہے اور ماہانہ قسط بھی کم ہوتی ہے، لیکن گاڑی کی کل قیمت میں اضافہ صرف 3000 کاہوتاہےجو ادا کرنا آسان ہے۔کیا یہ تو سود نہیں یا حرام تو نہیں؟

جواب

قسطوں میں ادائیگی کی صورت متعین کرکے گاڑی خریدنا جائز ہے، چاہے وہ عام قیمت سے کچھ مہنگی ہی کیوں نہ پڑے، یہ اضافہ سود یا حرام نہیں ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ سودا کرتے وقت گاڑی کی حتمی قیمت اور ادائیگی کی مدت طے کرلی جائے، اور مقررہ مدت سے پہلے ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کمی کی شرط یا ادائیگی میں مقررہ مدت سے زیادہ تاخیر کرنے کی صورت میں قیمت میں کسی قسم کے کسی بھی نام سے اضافہ کی شرط نہ رکھی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں