بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو رکعتوں کے درمیان چھوٹی سورت کا فصل کرنا


سوال

نماز میں ایک سورت  چھوڑ کردوسری پڑھنا کیسا ہے؟ مثلاً سورۃ الفیل پڑھی پہلی رکعت میں،  پھر سورۃ الکوثر پڑھی۔ بیچ میں سورۃ الماعون چھوڑ دی۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

فرض نماز میں اگر دو سورتیں دو رکعتوں میں پڑھی جائیں اور دونوں سورتوں کے درمیان میں کوئی مختصر سورت  (جس میں دو رکعتوں کی واجب قراء ت نہ ہوسکتی ہو) چھوڑ دی جائے تو  قصداً ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ جیسے پہلی رکعت میں سورۂ اخلاص اور دوسری رکعت میں سورۂ ناس پڑھنا تو یہ مکروہ ہو گا۔البتہ ایسی  بڑی سورت کا فاصلہ کرنا جس سے دو رکعت بن سکتی ہیں، یا ایک سے زائد مختصر سورتوں کا فاصلہ دیناجیسے پہلی رکعت میں سورۂ فیل اور دوسری رکعت میں سورہ  کوثر پڑھنا تویہ  بلا کراہت جائز ہو گا۔ لہٰذا سوال میں مذکورہ صورت بلاکراہت جائز ہے؛ کیوں کہ سورہ فیل اور سورہ کوثر کے درمیان دو سورتیں ہیں: سورہ قریش اور سورہ ماعون۔

نیز نوافل میں مختصر سورت کا فاصلہ ہو تو بھی مکروہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 546):

"(قوله: ويكره الفصل بسورة قصيرة) أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالة كثيرة فلايكره شرح المنية : كما إذا كانت سورتان قصيرتان، وهذا لو في ركعتين".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے