بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا


سوال

پہلا خطبہ جب ہوجائے اورامام صاحب بیٹھ جائیں اس دوران اکثر لوگ ہاتھ اوٹھا کر دعا کرتے ہیں، کیا ہاتھ اٹھانا درست ہے؟  میں نے سنا ہے بدعت ہے ؟

جواب

دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا  ثابت نہیں،  لہذا  بغیر  ہاتھ  اٹھائے دل دل میں دعا کی جائے۔ 

واضح رہے کہ جمعے کے دن خطبے کے لیے امام کے منبر پر آنے سے لے کر نماز تک حاضرین کے لیے حکم ہے کہ وہ خاموش رہیں اور با ادب، سکون و وقار سے بیٹھیں، اس دوران دل ہی دل میں ذکر کرنے یا درود پڑھنے کی اجازت ہے، زبان سے ذکر بھی نہیں کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200151

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے