بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دونوں ہاتھ کمر پر رکھنا یا دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر چلنا


سوال

میں نے ایک محفل میں بیٹھے کسی شخص سے سنا ہے کہ کمر کے  پیچھے ہاتھ باندھ کر چلنا جہنمیوں کی نشانی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا کتابی حوالہ کیا ہے؟

جواب

دونوں ہاتھ کمر کے دونوں طرف رکھنا یعنی کوکھ پر ہاتھوں سے ٹیک لگانا نماز اور غیر نماز دونوں میں مکروہ ہے، البتہ نماز میں اس کی کراہت شدید ہے؛  اس لیے مکروہِ تحریمی ہے، عام حالت میں مکروہِ تنزیہی ہے،  حدیثِ مبارک  میں ہے نماز میں کوکھ پر دونوں ہاتھ رکھنے کی ممانعت وارد ہے، اور اس ممانعت کی محدثینِ کرام نے محتلف احادیث کی روشنی میں متعدد توجیہات ذکر کی ہیں:

(1) ابلیس جب راندہ درگاہ ہوکر زمین پر آیا تو اس نے یہ ہیئت اختیار کی ہوئی تھی۔  (2) یہ یہود کا طریقہ ہے۔ (3) یہ مصیبت اور غم کے اظہار کی علامت ہے۔  (4) یہ اہلِ  جہنم کی راحت کا طریقہ ہے۔  (5) یہ مکتبرین کی علامت ہے۔

باقی دونوں ہاتھ  کمر کے پیچھے باندھ کر چلنے کی ممانعت سے متعلق کوئی صراحت نہیں مل سکی، نیز جن روایات میں اہلِ جہنم کی اس ہیئت کا ذکر ہے وہ کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا ہے، نہ کہ کمر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلنا۔  البتہ ہمارے اکابرین میں سے حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں اس کو نامناسب کہا ہے۔  (فتاوی محمودیہ 20/107)؛ اس لیے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے یہ معتاد ہیئت کے خلاف ہے، لیکن اس کی ممانعت منقول نہیں ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (7 / 297):
" النَّوْع الْخَامِس فِي مَعْنَاهُ:

وَقد ذكرنَا أَن الخصر وضع الْيَد على الخاصرة، وَقَوله: " مُخْتَصرا " من الِاخْتِصَار، وَقد فسره التِّرْمِذِيّ بقوله: والاختصار هُوَ أَن يضع الرجل يَده على خاصرته فِي الصَّلَاة، وَكَأَنَّهُ أَرَادَ نفس الِاخْتِصَار الْمنْهِي عَنهُ، وَإِلَّا فحقيقة الِاخْتِصَار لَاتتقيد بِكَوْنِهَا فِي الصَّلَاة، وَفَسرهُ أَبُو دَاوُد عقيب حَدِيث أبي هُرَيْرَة فَقَالَ: يَعْنِي أَن يضع يَده على خاصرته، وَمَا فسره بِهِ التِّرْمِذِيّ فسره بِهِ مُحَمَّد بن سِيرِين رَاوِي الحَدِيث فِيمَا رَوَاهُ ابْن أبي شيبَة فِي مُصَنفه عَن أبي أُسَامَة عَن هِشَام عَن مُحَمَّد: وَهُوَ أَن يضع يَده على خاصرته وَهُوَ يُصَلِّي، وَكَذَا فسره هِشَام فِيمَا رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي سنَنه عَنهُ وَحكى الْخطابِيّ وَغَيره قولاً آخر فِي تَفْسِير الِاخْتِصَار: وَهُوَ أَن يمسك بيدَيْهِ مخصرة أَي عَصا يتَوَكَّأ عَلَيْهَا، وَأنْكرهُ ابْن الْعَرَبِيّ، وَعَن الْهَرَوِيّ فِي الغريبين وَابْن الْأَثِير فِي النِّهَايَة: وَهُوَ أَن يختصر السُّورَة فَيقْرَأ من آخرهَا آيَةً أَو آيَتَيْنِ. وَحكى الْهَرَوِيّ أَيْضاً: وَهُوَ أَن يحذف فِي الصَّلَاة فَلَايمد قِيَامهَا وركوعها وسجودها. وَقيل: يختصر الْآيَات الَّتِي فِيهَا السَّجْدَة فِي الصَّلَاة فَيسْجد فِيهَا. وَالْقَوْل الأول هُوَ الْأَصَح، وَيُؤَيِّدهُ مَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُد حَدثنَا هناد بن السّري عَن وَكِيع عَن سعيد بن زِيَاد عَن زِيَاد بن صبيح الْحَنَفِيّ قَالَ: "صليت إِلَى جنب ابْن عمر رَضِي الله تَعَالَى عَنْهُمَا فَوضعت يَدي على خاصرتي، فَلَمَّا صلى قَالَ: هَذَا الصلب فِي الصَّلَاة وَكَانَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى عَنهُ. " قَوْله: "هَذَا الصلب" أَي شبه الصلب؛ لِأَن المصلوب يمد بَاعه على الْجذع، وهيئة الصلب فِي الصَّلَاة أَن يضع يَدَيْهِ على خاصرته ويجافي بَين عضديه فِي الْقيام.

النَّوْع السَّادِس فِي الْحِكْمَة فِي النَّهْي عَن الخصر:

فَقيل: لِأَن إِبْلِيس أهبط مُخْتَصراً، رَوَاهُ ابْن أبي شيبَة من طَرِيق حميد بن هِلَال مَوْقُوفاً. قيل: لِأَن الْيَهُود تكْثر من فعله؛ فَنهى عَنهُ كَرَاهَةً للتشبه بهم، أخرجه البُخَارِيّ فِي ذكر بني إِسْرَائِيل من رِوَايَة أبي الْفَتْح عَن مَسْرُوق " عَن عَائِشَة رَضِي الله تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَت تكره أَن يضع يَده على خاصرته، تَقول: إِن الْيَهُود تَفْعَلهُ". زَاد ابْن أبي شيبَة فِي رِوَايَة لَهُ: "فِي الصَّلَاة". وَفِي رِوَايَة أُخْرَى: " لَاتشبهوا باليهود". وَقيل: لِأَنَّهُ رَاحَة أهل النَّار، كَمَا روى ابْن أبي شيبَة فِي مُصَنفه عَن مُجَاهِد قَالَ: "وضع الْيَدَيْنِ على الحقو استراحة أهل النَّار". وروى ابْن أبي شيبَة أَيْضاً من رِوَايَة خَالِد بن معدان " عَن عَائِشَة رَضِي الله تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهَا رَأَتْ رجلاً وَاضِعاً يَده على خاصرته، فَقَالَت: هَكَذَا أهل النَّار فِي النَّار". وَهَذَا مُنْقَطع. وَقد جَاءَ ذَلِك من حَدِيث مَرْفُوع رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ من رِوَايَة عِيسَى بن يُونُس عَن هِشَام بن حسان عَن ابْن سِيرِين عَن أبي هُرَيْرَة رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ أَن رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  قَالَ: "الِاخْتِصَار فِي الصَّلَاة رَاحَة أهل النَّار". وَظَاهر هَذَا الْإِسْنَاد الصِّحَّة، إِلَّا أَن الطَّبَرَانِيّ رَوَاهُ فِي الْأَوْسَط فَأدْخل بَين عِيسَى بن يُونُس وَبَين هِشَام عبد الله بن الْأَزْوَر، وَقَالَ: لم يروه عَن هِشَام إِلَّا عبد الله بن الْأَزْوَر، تفرد بِهِ عِيسَى بن يُونُس، وَعبد الله بن الْأَزْوَر ضعفه الْأَزْدِيّ، وَالله أعلم. وَقيل: لِأَنَّهُ فعل المختالين والمتكبرين، قَالَه الْمُهلب بن أبي صفرَة. وَقيل: لِأَنَّهُ شكل من أشكال أهل المصائب يضعون أَيْديهم على الخواصر إِذا قَامُوا فِي المآثم". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 642):

"(والتخصر) وضع اليد على الخاصرة؛ للنهي (ويكره خارجها) تنزيهاً.
(قوله: والتخصر إلخ)؛ لما في الصحيحين وغيرهما: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخصر في الصلاة». وفي رواية: "عن «الاختصار». وفي أخرى: «عن أن يصلي الرجل مختصراً». وفيه تأويلات، أشهرها ما ذكره الشارح، وتمامه في شرح المنية والبحر. قال في البحر: والذي يظهر أن الكراهة تحريمية في الصلاة؛ للنهي المذكور. اهـ.؛ ولأن فيه ترك سنة الوضع، كما في الهداية، لكن العلة الثانية لاتقتضي كراهة التحريم، نعم تقتضي كراهة وضع اليد على عضو آخر غير الخاصرة". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے