بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دوسرا فریق اگر بات کے لیے راضی نہ ہو تو قطع تعلقی کا گناہ


سوال

ایک دوست کے ساتھ میری کسی بات پر  لڑائی ہوگئی، اور پھر بات نہیں ہوئی، کچھ وقت کے بعد میں نے کئی مرتبہ کوشش کی بات ہوجائے,  لیکن وہ تیار نہیں ، اور نہ ہی دعا و سلام ہوتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ میں نے کافی مرتبہ کوشش کرلی ہے پھر بھی وہ نہیں مان رہا تو کیا اللہ کے یہاں میں پکڑ کا باعث بنوں گا یا اس کا اور کوئی حل ہوگا؟

جواب

اگر آپ نے اس شخص کو  سچے دل سے معاف کردیا ہے، اور  اگر کوئی حق تلفی کی تھی اور اس کی تلافی بھی کردی ہے، اور کئی بار کوشش کے باوجود وہ بات کرنے پر راضی نہیں ہے تو امید ہے کہ اللہ کے یہاں آپ کا اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، البتہ اس کا یہ عمل درست نہیں ہے۔ اپنے اس دوست کے لیے دعا کرتے رہیں، اور بات چیت کی کوشش جاری رکھیں اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے رہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے