بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دورانِ سفر مسجد میں جماعتِ ثانیہ کا حکم


سوال

کچھ لوگ سفر پر جارہےہیں،  راستے میں کوئی  ایسی مسجد ہو  جس کا امام مقرر ہو پانچ وقت کی جماعت ہورہی ہو تو ایسے وقت میں اس مسجد میں جماعتِ  ثانیہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ  مسجد میں  اگر  امام، مؤذن  اور نمازی معلوم ہیں، نیز  جماعت کے اوقات بھی متعین ہیں  تو ایسی مسجد میں ایک مرتبہ اذان اور اقامت کے ساتھ  محلے والوں کے  جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلینے کے بعد دوبارہ نماز کے لیے جماعت کرانا مکروہِ  تحریمی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.

(قوله: ويكره) أي تحريماً؛ لقول الكافي: لا يجوز، والمجمع: لا يباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي، (قوله: بأذان وإقامة إلخ) ... والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعاً. اهـ".  (1/ 552، کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، مطلب  فی تکرار الجماعۃ فی المسجد، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

" عن أبي يوسف أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره، وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في البزازية، انتهى". (1/ 553)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن أبي يوسف أنه إنما يكره إذا كانت الجماعة الثانية كثيرةً، فأما إذا كانوا ثلاثةً، أو أربعةً فقاموا في زاوية من زوايا المسجد وصلوا بجماعة لا يكره. وروي عن محمد أنه إنما يكره إذا كانت الثانية على سبيل التداعي والاجتماع، فأما إذا لم يكن فلايكره".  (1/ 153) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے