بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دعا کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنا


سوال

کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا بدعت ہے یا نہیں ؟ ہاتھ پھیرنا درست ہے؟

جواب

دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا اور پھر دعا کے بعد  ہاتھوں کو  اپنے منہ پر پھیر لینا سنت ہے، حضرت عمر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  رسولِ کریم ﷺ جب دعا میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک نہ رکھتے جب تک کہ اپنے منہ پر نہ پھیر لیتے۔ (ترمذی)

ایک حدیث میں ہےحضرت مالک بن یسار  رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعے مانگو، اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے رخ کے ذریعہ نہ مانگو۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو  (تاکہ وہ برکت جو ہاتھوں پر اترتی ہے منہ کو بھی پہنچ جائے)۔
  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے سائب بن یزید  رضی اللہ عنہما اپنے والدِ مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں کو پھیرتے۔

 علامہ طیبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ دعا کے بعد ہاتھوں کو منہ پر اسی وقت پھیرتے جب کہ دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے، اگر دعا کے وقت آپ ﷺ ہاتھوں کو نہ اٹھاتے تو انہیں منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے، لہٰذا نماز کی حالت میں، طواف میں، سونے کے وقت، کھانے کے بعد اور اسی طرح دیگر مواقع پر آپ ﷺ سے جو دعائیں اور دعاؤں کے وقت ہاتھوں کو  اٹھانا منقول نہیں ہے تو آپ ﷺ ان مواقع پر ہاتھوں کو منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے۔

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 464):
"عن عمر بن الخطاب، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء، لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه» قال محمد بن المثنى في حديثه: لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه: «هذا حديث غريب".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1536):
"وعن السائب بن يزيد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه. روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في «الدعوات الكبير»". 

(وعن السائب بن يزيد، عن أبيه «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا، فرفع يديه» ) : عطفاً على دعا (مسح وجهه بيديه) : قال ابن حجر: جواب إذا، والصواب أنه خبر كان، وإذا ظرف له. قال الطيبي رحمه الله: دل على أنه إذا لم يرفع يديه في الدعاء لم يمسح، وهو قيد حسن؛ لأنه صلى الله عليه وسلم كان يدعو كثيراً، كما في الصلاة والطواف وغيرهما من الدعوات المأثورة دبر الصلوات، وعند النوم، وبعد الأكل، وأمثال ذلك، ولم يرفع يديه، لم يمسح بهما وجهه".

مشكاة المصابيح (2/ 694):

"وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا».
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم»". 
  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں