بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دعا آنکھیں کھول کر مانگے یا بند کر کے؟


سوال

کیا نماز کے بعد دعا مانگتے ہوئے آنکھیں کھلی ہونی چاہییں؟   بعض اوقات بند ہو جاتی ہیں۔  صحیح طریقہ بتادیں!

جواب

دعا کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ دعا کرتے وقت دعا کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان دیکھے، البتہ ایسا کرنا فرض یا واجب نہیں ہے۔

نماز کی حالت میں آنکھوں کو کھلا رکھنا چاہیے، سنت یہی ہے، قصداً بند نہیں کرنا چاہیے، کھڑے ہونے کی حالت میں سجدہ کی جگہ پر، رکوع  کی حالت میں پیروں کی پشت پر اور سجدوں میں ناک کے سرے پر اور بیٹھنے کی حالت میں رانوں پر نظر رکھے، البتہ اگر کسی شخص کا آنکھ بند کرلینے  سے نماز میں زیادہ دل لگے، اور آنکھیں کھلی ہونے کی صورت میں توجہ ہٹتی ہو اور خشوع وخضوع متاثر ہوتا ہو تو اس کے لیے آنکھیں بند کرنے کی گنجائش ہے، باقی کھلا رکھنا اس کے لیے بھی بہتر ہے۔

دعا کی حالت میں یہ دیکھنا چاہیے کہ  دل جمعی اور حضورِ قلب آنکھوں کو کھولنے سے حاصل ہو رہا ہے یا بند کرنے سے، اگر آنکھوں کو کھول کر دعا مانگنے میں زیادہ دل جمعی نصیب ہوتی ہو تو آنکھیں کھول کر دعا مانگنا  چاہیے، ورنہ آنکھیں بند کر کے دعا مانگ لے۔

دعا کے بعض اہم آداب یہ ہیں
*شروع میں خوب جی لگاکر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے۔

* حمد و ثنا کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درودِ پاک بھیجے، اور دعا کے آخر میں بھی درود بھیجے۔

*  قبولیت کے کامل یقین کے ساتھ دعا مانگی جائے۔ ایک حدیث میں آں حضرت ﷺ  نے ارشاد فرمایا:
"اُدْعُوْا اللّٰه وَاَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالْاِجَابَة وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰه لَا یَسْتَجِیْبُ دُعَاء مِّنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاه". (ترمذی شریف۲؍۱۸۶)
اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعامانگو کہ تمہیں قبولیت کا پورایقین ہو اور جان لوکہ اللہ تعالیٰ غافل اور لااُبالی دل سے دعا کو قبول نہیں فرماتے۔

*  اگر مانگی مراد پوری نہ ہو تو یہ نہ کہے کہ ’’میں نے دعامانگی تھی، مگر قبول نہیں ہوئی‘‘ بلکہ برابر مانگتا رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"یُسْتَجَابُ ِلأَحَدِکُمْ مَا لَمْ یَعْجَلْ فَیَقُوْلُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ یُسْتَجَبْ لِيْ".  (مسلم شریف، بخاری شریف، کتاب الدعاء
۴۴)
جب تک آدمی جلد بازی نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے (اور جلد بازی یہ کہ) کہے کہ میں نے دعا مانگی تھی، مگر وہ قبول ہی نہ ہوئی۔

جہاں تک ممکن ہو دعا میں رقتِ قلبی اور تضرع وزاری کی کوشش کی جائے، دعا کے کلمات تین تین مرتبہ کہے، اگر کوئی مصلحت اور ضرورت پیشِ نظر نہ ہو تو دعا آہستہ ہی مانگی جائے، چیخ پکار نہ مچائی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَة اِنَّه لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ}[الاعراف:
۵۵]
ترجمہ: اپنے رب کو پکارو گڑگڑاکر اور چپکے چپکے، بے شک اللہ کو حد سے آگے بڑھنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے۔

٭ دعا کے دوران آسمان کی طرف نگاہ نہ اٹھائے کہ یہ بے صبری کی علامت ہے، یا خود کو نیک سمجھ کر قبولیتِ دعا کے استحقاق کا اظہار ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں