بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

درود و سلام کی مراد


سوال

 آنحضور صلی اللہُ علیہ وسلم پر درود و سلام سے کیا مراد ہے کیا درود الگ ہے اور سلام الگ ہے۔ اگر الگ الگ ہیں توبتائیں سلام سے کیا مراد ہے.

جواب

قرآنِ مجید میں امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاہ و سلام بھیجیں،  آیت مبارکہ  میں صلاۃ اور سلام کا حکم الگ الگ دیا گیا ہے، صلاۃ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رفعِ درجات کی دعا کی جائے اور سلام کا معنی یہ ہے کہ السلام عليك أيها النبي کہا جائے، گویا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا جاتا ہے اسی طرح رسول اللہ علیہ وسلم کو بھی سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

التفسير الوسيط لطنطاوي (11/ 242):
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ أى: عظموه ووقروه وادعوا له بأرفع الدرجات وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً أى: وقولوا: السلام عليك أيها النبي. والسلام: مصدر بمعنى السلامة.

معانى القرآن للأخفش (2/ 481)
{إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ياأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ صَلُّواْ عَلَيْهِ وَسَلِّمُواْ تَسْلِيماً} فصلاة الناس عليه دعاؤهم له

روح البيان (7/ 225)
قال كعب بن عجرة رضى الله عنه لما نزل قوله تعالى (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً) قمنا اليه فقلنا اما السلام عليك فقد عرفناه فكيف الصلاة عليك يا رسول الله قال (قولوا اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد) 

الموسوعة القرآنية (10/ 555)
 إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً:
الصلاة من الله رحمته ورضوانه.
ومن الملائكة الدعاء والاستغفار.
ومن الأمة الدعاء والتعظيم لأمره.

 


فتوی نمبر : 144104200710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں