بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

درود شریف کے بغیر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟


سوال

کیا درود کے بغیر نماز ہوجاتی ہے? احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماہیں!

جواب

قعدہ اخیرہ میں درود شریف پڑھنا سنت ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، اور سنت کے ترک سے نماز ہوجاتی ہے،  سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، لیکن نماز کا ثواب کم ہوجاتاہے۔ اور اگر کوئی جان بوجھ کرسنت کو چھوڑے یا سنت ترک کرنے کی عادت بنالے تو وہ گناہ گار بھی ہوگا، اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم بھی ہوگا۔  لہٰذا  اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں درود شریف نہیں پڑھتا تو اس کی نماز ادا تو  ہوجائے گی، لیکن ناقص ہوگی، اور قصداً درود شریف چھوڑنے کی صورت میں  نماز کا اعادہ بہتر ہے،  بالخصوص درود شریف کے ترک سے  اعادہ  کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قعدہ اخیرہ میں درود شریف فرض ہے،  اور احناف کے ہاں بھی انتہائی تاکیدی سنت ہے، لہذا جلدی کی صورت میں بھی اللّٰهم صل على محمد تک پڑھ لینا چاہیے، نماز کے آخر میں قصداً درود شریف ترک کرنا انتہائی درجہ محرومی اور شقاوت کی علامت ہوگی۔

ایک حدیث  میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ٹھیک طرح سے نماز نہیں پڑ ھ رہے تھے تو آپ نے ان کو بار بار فرمایا کہ جاؤ دوبارہ نماز پڑھو،کیوں کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی، آخر کار اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ ہی مجھے سکھا دیجیے کہ میں کس طرح نماز پڑھوں، تو  پھر آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھایا اور نماز کے درست ہونے کے  لیے جو بھی ضروری باتیں تھیں  وہ ان کو سکھادیں  اور آخر میں قعدہ اخیرہ  میں تشہد پڑھنے کے لیے بیٹھنے کی تلقین کرنے کے بعد فرمایا کہ جب تم یہ کام کرچکو تو تمہاری نماز مکمل ہوجائے گی، لہٰذا اگر نماز میں درود شریف پڑھنا بھی فرض ہوتا اور درود شریف کے بغیر نماز نہ ہوتی تو آپ ان کو درود شریف پڑھنے کی تلقین ضرور کرتے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تشہد سکھانے کے بعد فرمایا کہ جب آپ یہ عمل کرلو تو آپ کی نماز کامل ہوگئی۔

شرح معاني الآثار (1/ 275):

" بما حدثنا فهد، قال: ثنا أبو نعيم، وأبو غسان، واللفظ لأبي نعيم، قالا: ثنا زهير بن معاوية، عن الحسن بن الحر، قال: حدثني القاسم بن مخيمرة، قال: أخذ علقمة بيدي فحدثني: أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أخذ بيده، وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيده وعلمه التشهد، فذكر التشهد على ما ذكرنا عن عبد الله في باب التشهد. وقال: «فإذا فعلت ذلك، أو قضيت هذا فقد تمت صلاتك، إن شئت أن تقوم فقم، وإن شئت أن تقعد فاقعد»".

مصنف ابن أبي شيبة (1/ 257):

"حدثنا أبو خالد الأحمر، عن محمد بن عجلان، عن علي بن يحيى بن خلاد، عن أبيه، عن عمه، وكان بدرياً، قال: كنا جلوساً مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخل رجل فصلى صلاةً خفيفةً لايتم ركوعاً ولا سجوداً، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ونحن لانشعر، قال: فصلى، ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «أعد فإنك لم تصل»، قال: ففعل ذلك ثلاثاً، كل ذلك يقول له: «أعد فإنك لم تصل»، فلما كان في الرابعة قال: يا رسول الله، علمني فقد والله اجتهدت! فقال: «إذا قمت إلى الصلاة فاستقبل القبلة، ثم كبر، ثم اقرأ، ثم اركع حتى تطمئن راكعاً، ثم ارفع حتى تطمئن قائماً، ثم اسجد حتى تطمئن، ثم اجلس حتى تطمئن جالساً، فإذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك، وما نقصت من ذلك نقصت من صلاتك»".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 512، 518):

"(وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم) ... وسنة في الصلاة، ومستحبة في كل أوقات الإمكان.

 (قوله: وسنة في الصلاة) أي في قعود أخير مطلقاً، وكذا في قعود أول في النوافل غير الرواتب، تأمل". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے