بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

درودِ تاج کے ورد کا حکم


سوال

درود تاج پڑھ سکتے ہیں ورد کر سکتے ہیں؟

جواب

1۔درود تاج میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں، گو ان میں تاویل ممکن ہے، لیکن بہر حال موہمِ شرک ضرور ہیں؛ اس لیے اس کے پڑھنےسے اجتناب کرناچاہیے۔

محدث العصر  حضرت مولانا  محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ  ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
" درودِ تاج ان درودوں میں سے نہیں ہے جو حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں، اور ظاہر ہے کہ جو کلمات درود کے ماثورہ ہوں ان میں برکت بھی زیادہ اور ثواب بھی زیادہ ہے، نیز اس درود کی جو سند منقول ہے وہ بھی غیر مستند ہے۔ بہرحال اگر کسی کا ذوق وشوق اس کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتاہے، لیکن وہ جو در اصل اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجازاً درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ وواسطہ سمجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتاً ان کے معانی مراد نہ ہوں، بلکہ مجازاً مراد ہوں تو شرک نہ ہوگا، پھر بھی خلافِ اولیٰ وخلافِ احتیاط ضرور ہوگا"۔ انتہی
بطورِ مثال : "دافع البلاء والوباء والقحط والمرض" یہ اللہ رب العزت کی صفات ہیں، جنہیں درودِ تاج میں رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت کیا گیا ہے ، اگرچہ اِن میں مجاز کی تاویل کی جاسکتی ہے،   اس لیے درود تاج کوئی پڑھے بھی تو یہ والے الفاظ نہ کہے۔
مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ اس سے متعلق لکھتے ہیں:

’’ابتداءً معلوم نہیں کس نے اس درود کوایجادکیاہے، جوفضائل عوام جہال بیان کرتے ہیں وہ محض غلط اورلغو ہیں،احادیث میں جو درود  وارد ہیں وہ یقیناً درودِ تاج سے افضل ہیں،نیز اس میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں اس لیے اس کوترک کرناچاہیے‘‘۔(فتاوی محمودیہ3/122)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے