بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

درمیان سال میں ملنے والے مال اور تنخواہ کی رقم پر زکاۃ


سوال

زید کے عمرو پر تین لاکھ روپے قرض ہیں، اورسال گزرنے سے 2 دن پہلے زید کو وہ تین لاکھ روپے واپس ملے، اور زید کی تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے جو اس کے ایک ماہ کا خرچ ہے تو اب زید پر کتنے روپیوں کی زکاۃ لازم ہوگی؟

جواب

جس دن نصاب کا سال مکمل ہوا ہے اس دن زید کے پاس جتنے قابلِ زکاۃ اموال موجود تھے اس میں واجب الادا اخرجات منہا کرکے ان سب کا چالیسواں  حصہ زکاۃ میں دینا ہوگا، لہذا  سال پورا ہونے کے دن اگر تین لاکھ موجود تھے تو  وہ  اور تنخواہ کی رقم میں سے واجب الادا  تمام اخراجات  مثلاً: بجلی کا بل ، راشن وغیرہ اور جو جو چیزیں اس پر اس دن تک لازم ہیں سب منہا کرکے باقی تنخواہ کی جتنی بچت ہے اس کو بھی زکاۃ کے نصاب میں شامل کرکے ڈھائی فیصد (چالیسواں حصہ) زکاۃ لازم ہوگی۔

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 271)
''هي تمليك مال مخصوص لشخص مخصوص فرضت على حر مسلم مكلف مالك لنصاب من نقد ولو تبراً أو حليياً أو آنيةً أو ما يساوي قيمته من عروض تجارة فارغ عن الدين وعن حاجته الأصلية ولو تقديراً. وشرط وجوب أدائها حولان الحول على النصاب الأصلي، وأما المستفاد في أثناء الحول فيضم إلى مجانسه ويزكي بتمام الحول الأصلي سواء استفيد بتجارة أو ميراث أو غيره''۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262)
'' فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: "ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض: أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة"، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.
قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضاً، ونحوه قوله في السراج: سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية: نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقاً لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح: إنه الحق، فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليها أيضاً لبراءة ذمته، وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد، فليتأمل . والله أعلم''۔
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے