بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دجال اور خراسانی لشکر کے بارے میں تفصیلات


سوال

1- دجال کے بارے میں احادیث اور کتب چاہییں۔

2- خراسان کے مجاہدین کے بارے میں احادیث اور کتب چاہییں۔

جواب

واضح رہے کہ آثارِ  قیامت کے حوالے سے احادیث میں جو علامات مذکور ہیں ان علامات کو دیکھتے  ہوئے کسی زمانے کے بارے میں یقینی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہی وہ وقت ہے، جس کی خبر احادیث میں دی گئی ہے، اس لیے کہ ظنی ومحتمل امور کو قرائن کی بنا پر یقینیات کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ یہ اصولی بات ذہن میں رکھتے ہوئے علاماتِ قیامت کے حوالے سے اصل مآخذ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، بعد کے لوگوں نے ظنی بنیادوں پر احادیث کے مصداق بیان کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن یہ سب احتمال کے درجے کی چیزیں ہیں۔نیز علاماتِ قیامت کے حوالے سے جہاں مستند احادیث کا ذخیرہ موجود ہے، وہیں بہت سی ضعیف یا غیر ثابت روایات بھی مشہور ہوچکی ہیں، اس حوالے سے درست طرزِ عمل یہ ہوگا کہ متقدمین کی کتابوں کو بنیاد بنایا جائے، خصوصاً وہ اہلِ علم جو حدیث کے نقد میں مقام رکھتے ہوں۔ 

 مذکورہ تمہیدی باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے کتبِ حدیث، خاص طور پر سننِ ابی داود  میں "کتاب الفتن والملاحم" اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی "النهاية في الفتن والملاحم"، مفید تر ہوگی۔   نیز "دجالی فتنے کے نمایاں خدوخال" از مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ،  اور "معرکہ ایمان و مادیت" از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

2- خراسانی لشکر و غزوہ ہند کے حوالے سے روایات میں وارد غزوہ کا مصداق کون سا غزوہ ہے؟  اس بارے میں تین آراء پائی جاتی ہیں، جیساکہ فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

(۱) اسلام کے ابتدائی اور وسطی دور میں جو غزوات پائے گئے جن کی بنا پر ہندوستان ایک عرصہ تک دارالاسلام بنا رہا اور وہاں اسلامی حکومت قائم رہی، یہ غزوات الہند کا مصداق ہیں جن میں بالخصوص محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کی معرکہ آرائی قابلِ  ذکر ہے۔

(۲) بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ حدیث میں جو ہند کا ذکر آیا ہے اس سے خاص ہندوستان مراد نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی طرف کے علاقے مراد ہیں، جس میں خاص طور پر بصرہ اور اس کے اطراف کا علاقہ ہے، اس کی تائید بعض آثار صحابہ سے ہوتی ہے جو یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ ہند سے بصرہ مراد لیتے ہیں، اس تاویل کے اعتبار سے غزوہ ہند کے سلسلہ  کی روایات کا تعلق ابتدائی زمانہ میں جو فارس سے جنگیں ہوئیں ان سے ہے۔

(۳) تیسری رائے یہ ہے کہ ابھی ان روایات کا مصداق پیش نہیں آیا، بلکہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اس معرکہ آرائی کا تحقق ہوگا۔ اس رائے کے قائلین ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو علامہ بن نعیم بن حماد نے اپنی کتاب ”الفتن“ میں پیش کی ہیں، جن میں یہ ذکر ہے کہ ”ایک جماعت ہندوستان میں جہاد کرے گی اور اس کو فتح نصیب ہوگی اور جب وہ مال غنیمت لے کر واپس لوٹیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ملک شام میں نزول ہوچکا ہوگا“۔ (الفتن، ص: ٤٠٨)۔

یہ بھی واضح رہے کہ خراسان کے مصداق کے بارے میں بھی اہلِ علم اور جغرافیہ دانوں کی آراء مختلف ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے