بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنے والے شخص کی امامت


سوال

1- سعودی عرب کے اندر اجنبی (پاکستانی، ہندی،بنگالی) ،اگر بہت  ہی پڑھا لکھا ہو تو بھی شرم کے مارے وہ امامت نہیں کرسکتا،  اور اگر جماعت کا وقت آئے تو اس دوران جس شخص نے اذان دی ہوتی ہے،  وہی اکثر وبیشر  امام کی عدمِ موجودگی میں جماعت کرواتا ہے، بعض اوقات تو ان کی داڑھی ہی نہیں ہوتی، اور ہوتی بھی ہے تو کبھی استرا پھروایا ہوتاہے، کبھی داڑھی کٹی ہوئی ہوتی ہے، آیا اس صورت میں کیا اس کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟  دوسری صورت اکثر امام حضرات بھی اس بیماری میں مبتلاہیں تو  کیا ان کے پیچھے جماعت پڑھی جائے  یا بہتر  ہے کہ نماز کے بعد مسجد جاکر اپنی اکیلے میں نماز ادا کی جائے ؟

2-  اکثر وبیشر سردی وغیر سردی میں امام حضرات جوراب پر مسح کرتے ہیں، بعض اوقات گھر سے وضو کرکے آتے ہیں اور پتا  نہیں چلتا تو کیا اس صورت میں نماز کا اعادہ کرنا ہوگا یا "ظنوا المؤمن خیراً" کی امید رکھی جاسکتی ہے؟

جواب

1-  اگر بعض اوقات داڑھی ہی نہیں ہوتی سے مراد نابالغ ہے تو واضح رہے کہ بالغ کی اقتدا نابالغ کے پیچھے صحیح نہیں ہے، ایسی صورت میں تو نماز ہی ادا نہیں ہوگی۔ اور اگر ہے تو بالغ لیکن داڑھی آئی نہیں ہے ایسی صورت میں نماز بلاکراہت ادا ہوجائے گی۔

رہی بات داڑھی آنے کے بعد کٹوانے یا منڈوانے کی تو داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ اور حرام ہے، داڑھی منڈوانا یا کتروانافسق ہے۔ جو شخص داڑھی کاٹے یا مونڈے ایسے شخص کو  امام بنانا مکروہِ  تحریمی ہے، اگرتوبہ کرلے تو  پھر جب تک داڑھی ایک مشت نہ ہو جائے اس وقت وہ شخص امامت کا اہل نہیں ہے۔

لہذا مذکورہ صورت میں جب امام نہ ہو تو  بہتر یہ ہے کہ خود آگے بڑھ کر نماز پڑھادی جائے یا کسی داڑھی والے کو خود آگے کردیا جائے۔ اور اگر مستقل امام ہی ایسا ہو یا خود امامت کروانے میں کوئی مانع ہو تو  ایسے  ڈاڑھی منڈے امام کی اقتدا  میں اگرچہ نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے،  لیکن اگر کہیں قریب میں کوئی اور ایسی مسجد نہ ہو جس میں باشرع امام ہو تو مسجد اور جماعت دونوں کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے اس کی اقتدا میں ہی نماز ادا کرلینی چاہیے۔

2- نائیلون والے موزوں پر مسح جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ امت کے تمام مستند فقہاء و مجتہدین کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ باریک موزے جس سے پانی چھن جاتا ہو، یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر کھڑے نہ رہتے ہوں، یا ان میں تین میل مسلسل چلنا ممکن نہ ہو ، ان پر مسح جائز نہیں ہے ۔ چوں کہ ہمارے زمانے میں سوتی، اونی یا نائیلون کے جو موزے رائج ہیں وہ باریک ہوتے ہیں اور ان میں مذکورہ اوصاف نہیں پائے جاتے؛ اس لیے ان پر مسح کسی حال میں جائز نہیں، اور جو شخص ایسا کرے گا امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ،  بلکہ کسی بھی مجتہد کے مسلک میں اس کا وضو صحیح نہیں ہوگا۔ جب امام کا وضو صحیح نہیں ہوگا تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح نہیں  ہوگی۔ اور ایسے امام کی اقتدا ناجائز ہے؛  لہذا اگر کسی امام کے بارے میں اس کا یقین ہے کہ وہ اس طرح کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں بعد میں جماعت کرالیں، یا علیحدہ پڑھ لیں۔ 

الدر المختار   میں ہے:

"و أما الأخذ منها وهي دون ذلك كما فعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم". (٢/ ٤١٨، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة".

و في الشامية:

"(قوله: نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع". (الشامية: ١/ ٥٦٢، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے