بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

داڑھی صاف کرنا


سوال

داڑھی صاف کرنا اگر حرام ہے تو قرآن اور حدیث کا قوی حوالہ دیں!  امام ابو حنیفہ ،امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر حرام ہےتو کیا حدیث یا قرآن پاک سےبھی حرام ہونا ثابت ہے؟

جواب

درج ذیل احادیث  میں صراحت سے داڑھی کے بڑھانے کا حکم ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے صریح حکم کی خلاف ورزی ناجائز اور حرام ہے۔

'' خالفوا المشرکین وفّروا اللّحی''۔(صحیح البخاري، کتاب اللباس، باب تقلیم الأظفار، النسخة الهندیة۲/ ۸۷۵، رقم:۵۶۶۳، ف:۵۸۹۲۔)
ترجمہ: مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔

اسی معنی کی مزید احادیث درج ذیل ہیں۔

الصحیح لمسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، النسخة الهندیة ۱/ ۱۲۹، بیت الأفکار رقم:۲۵۹۔
'' عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم: أحفوا الشوارب وأعفوا اللحی''۔ ( جامع الترمذي، أبواب الأدب، باب ماجاء في إعفاء اللحیة، النسخة الهندیة ۲/ ۱۰۵، دارالسلام رقم:۲۷۶۳) 
سنن أبی داؤد شریف، کتاب الطهارة، باب السواک من الفطرة، النسخة الهندیة ۱/ ۸، دارالسلام رقم:۵۳۔

'' وعن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: انهکوا الشوارب وأعفوا اللحی''۔ (صحیح البخاري، کتاب اللباس / باب إعفاء اللحی۲؍۸۷۵رقم:۵۸۹۳دار الفکر بیروت)
'' عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس''۔ (صحیح مسلم، کتاب الطهارة / باب خصال الفطرة ۱؍۱۲۹رقم:۲۶۰بیت الأفکار الدولیة)

نیز اس کے صاف کرنے/ مشت سے کم کاٹنے کی حرمت اشارۃً قرآن مجید میں بھی موجود ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے  تغییر خلقِ اللہ یعنی انسانی اعضاء میں اللہ تعالی کی بنائی ہوئی  تخلیق میں تبدیلیاں کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

﴿ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا﴾ [النساء:119]

ترجمہ:اور میں ان کو گمراہ کروں گا اور میں ان کو ہوسیں دلاؤں گا اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس میں وہ چوپایوں کے کانوں کو تراشا کریں گے اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے  اور جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بناوے گا  وہ صریح نقصان میں واقع ہوگا۔

واضح رہے کہ کسی فعل کے حرام ہونے کے لیے قرآنِ مجید یا احادیثِ نبویہ میں لفظِ حرام کہہ کر اس کا حکم ''حرام'' بیان کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ بعض مرتبہ اشارۃً ایک حکم مذکور ہوتاہے اور اس کا حکم حرام یا فرض کا درجہ رکھتاہے، قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں بیان کردہ احکام کے مراتب ودرجات جاننے کا ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے شاگردوں (تابعین رحمہم اللہ) کی تشریحات ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آثار سے احکامِ اسلام کا مرتبہ متعین ہوجاتاہے، کیوں کہ وہ آپ ﷺ کے براہِ راست شاگرد ، وحی کے نزول کے شاہد اور کمال درجہ شوق کے ساتھ آپ ﷺ سے دین کو سیکھنے سمجھنے والے ہیں، انہیں کسی فعل میں آپ ﷺ سے رخصت ملی تو بلا کم وکاست پوری امانت داری کے ساتھ امت تک رخصت والا وہ عمل بھی پہنچایاہے، آپ ﷺ نے خود بھی داڑھی رکھی ،  تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی داڑھی رکھی، اور آپﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو داڑھی بڑھانے کاحکم دیا،اور کسی نبی علیہ السلام یا صحابی رضی اللہ عنہ سے داڑھی صاف کرنا ثابت نہیں، صرف دو ، تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتنا آتاہے کہ وہ ایک مشت تک داڑھی کو درست کرتے تھے، اس سے کم داڑھی رکھنا بھی کسی سے منقول نہیں ہے، اور درج بالا احادیث میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ آپﷺ نے صاف اور دو ٹوک حکم دیا ہے کہ داڑھی بڑھاؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے وجوب ہی سمجھا، تب ہی خود بھی شدت سے عمل کیا اور آنے والی امت کو یہی امانت حوالہ کرکے گئے، ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگردوں نے وہی امانت امت تک پہنچائی ہے، انہوں نے دین کے مسائل خود سے نہ بنائے ہیں اور نہ ہی خود سے احکام کے مراتب متعین کیے ہیں، فقہاء کرام رحمہم اللہ جب تک کسی چیز کا حکم اور اس حکم کا درجہ متعین نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس قرآن وحدیث سے دلیل موجود نہ ہو، خواہ صراحتاً ہو یا اشارۃً۔

اس لیے اس فکر کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے کہ اگر کوئی چیز چاروں ائمہ کرام کے ہاں حرام ہے تو شاید وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہوگی۔ کلا وحاشا! ایسا ہرگز ہونہیں سکتا، یہ سوچ درحقیقت ان کے علمی مقام اور تدین سے ناواقفیت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے، جس دورِ خیر میں یہ ائمہ کرام گزرے ہیں، اس وقت دینی مسائل میں خامہ فرسائی ہرکہ ومہ کے بس کی بات تھی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے علمی زرخیزی کے اس دور میں انہیں قبولیت کا وہ بلند مقام عطا فرمایا کہ پوری دنیا ان کی عظمت کے آگے سرنگوں ہوگئی، ان ائمہ کرام نے ایک ایک حکم کے بیان کے لیے مستقل طور پر مکمل قرآن مجید بغور پڑھا، احایث نبویہ کے ذخیرے کا مطالعہ کیا، اور سب سے بڑھ کر دین کو ایک یا دو واسطوں سے بدرجہ اتم سمجھا۔

یہ بات بھی قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً اور اشارۃً موجود ہے کہ  مسلمان اہلِ علم کا اجماع/ اتفاق مستقل حجتِ شرعیہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث میں کوئی حکم صراحتاً موجود نہ ہو ،لیکن صحابہ کرام یا قرونِ اولیٰ کے اہلِ علم کسی آیت یا حدیث کی مراد پر متفق ہوجائیں تو یہ اجماع خود حجتِ شرعیہ ہے، اس اجماع سے ہی حکم کا درجہ متعین ہوجاتاہے، جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین وتبع تابعین اورفقہاء مجتہدین رحمہم اللہ قرآن وحدیث سے ایک مسئلے (داڑھی صاف کرنے یا ایک مشت سے کم کرنے ) کا حکم سمجھ کر اس کے درجے پر متفق ہیں تو ان حضرات کا اجماع ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے، خواہ قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً حرمت نہ بھی موجود ہو۔ چہ جائے کہ داڑھی بڑھانے کے وجوب پر صراحتاً دلالت کرنے والی احادیث موجود ہیں جن کی جانبِ مخالف (واجب کو ترک کرنا) حرام ہے۔

لہٰذا معلوم ہواکہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں داڑھی صاف کرنے کی حرمت موجود ہے، تب ہی چاروں ائمہ کرام رحمہم اللہ نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے