بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دارالاسلام میں مندر اور کنیسہ کی تعمیر


سوال

کیا دار الاسلام میں مندر و کنیسہ بنانا درست ہے؟  مدلل جواب عنایت فرمادیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مندر و کنیسہ کی تعمیر کے سلسلہ میں فقہاء کی تحریرات کا خلاصہ یہ ہے کہ دار الاسلام میں تین قسم کے علاقے ہوتے ہیں:

1- ایک وہ شہر جسے مسلمانوں  ہی نےآباد کیا ہو، اس لیے وہاں مسلمان ہی قیام پذیر ہوئےہیں، وہاں غیرمسلموں کوعبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

2- دوسرے جو علاقے مسلمانوں نے بزورِ طاقت فتح کیے ہوں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم ہوگئے ہوں، اب وہ مسلمانوں ہی کا شہر بن گیا ہو، وہاں بھی غیر مسلموں کو نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا ممنوع ہوگا، لیکن اگر وہاں غیر مسلموں کی کافی آبادی ہوجائے اور ان کو وہاں کی شہریت (ذمہ)حاصل ہوجائے، تو پھر انہیں نئی عبادت گاہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔

3- تیسرے وہ علاقے جو صلح کے ذریعے حاصل ہوئے ہوں،اور معاہدے کے تحت و  ہاں کی اراضی کو  قدیم آبادی کی ملکیت تسلیم  کیا گیا ہو۔ وہاں انہیں نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق حاصل ہوگا۔نیز جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہوں وہ نہ صرف باقی رہیں گی، بلکہ اگر وہ گرجائیں یا مرمت طلب ہوجائیں تو ان کے لیے دوبارہ ان کی تعمیر بھی جائز ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"في الفتح: قيل: الأمصار ثلاثة: ما مصره المسلمون، كالكوفة والبصرة وبغداد وواسط، ولايجوز فيه إحداث ذلك إجماعاً، وما فتحه المسلمون عنوةً فهو كذلك، وما فتحوه صلحاً، فإن وقع على أن الأرض لهم جاز الإحداث، وإلا فلا إلا إذا شرطوا الإحداث اهـ ملخصاً". (4/203)

وفیہ ایضاً:

"فقد صرح في السیر  بأنه لو ظهر علی أرضهم وجعلهم ذمةً لایمنعون من إحداث کنیسةٍ؛ لأن المنع مختص بأمصار المسلمین  التي تقام فیها الجمع والحدود، فلو صارت مصراً للمسلمین منعوا من الإحداث". (ج:۴،ص:۲۰۳) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200381

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے